BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 November, 2004, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی

گردے
اعضا کی تجارت اب پاکستان میں جگہ جگہ ہو رہی ہے
گردے کی تجارت سے میرا پہلا واسطہ چند سال پہلے اس وقت پڑا تھا جب میں نے ایک پاکستانی اخبار کے اندرونی صفحے پر یہ خبر دیکھی کہ پنجاب کے قصبے کوٹ مومن کا ایک شخص جو اپنا ایک گردہ بیچ چکا ہے اس علاقے کے زمینداروں کے ڈر سے چھپتا چھپاتا پھر رہا ہے۔ اسے ڈر تھا کہ زمیندار اسے جان سے مار دیں گے۔

مجھے گردوں اور زمینداروں کا تعلق بالکل سمجھ نہ آیا۔ اسی تعلق کو سمجھنے میں پہلے سرگودھا اور پھر کوٹ مومن گیا۔ ایک گھر میں چھپے ہوئے اس غریب کسان سے بھی ملاقات کی جسے ایک تو یہ ڈر تھا کہ وہ ایک گردے کے ساتھ زندہ رہے گا یا نہیں اور دوسرا ڈر کہ جن زمینداروں کے پاس وہ جبری مشقت یا اس کی زبان میں اسیری تھا وہ اب اس کے سارے پیسے لے لینا چاہتے ہیں۔

عجیب سماں تھا۔ ایک تاریک سا گھر تھا جس میں ایک چار پائی، صندوق اور ایک بجھا ہوا چولہا تھا ایک شخص قمیض اٹھائے مجھے وہ کٹ یا زخم دکھا رہا تھا جو گردہ نکالتے وقت لگایا گیا تھا۔ گردہ بیچنے کے اسے ایک لاکھ چار ہزار روپے ملنے تھے لیکن کٹ کٹا کر جو رقم اس کے پاس آئی وہ 80 ہزار روپے تھے۔

اس کا تو شاید زخم اس وقت تک بھر گیا تھا لیکن مجھے اس دن ایک نیا زخم لگا۔ محبت کی وجہ سے اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے ایک گردہ دیتے ہوئے تو لوگوں کو سنا تھا لیکن غربت کی وجہ سے اسے بیچتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔

کچھ عرصے کے بعد چند غیر ملکی صحافی میری اخبار میں چھپی رپورٹ پڑھ کر پاکستان گردوں کی تجارت پر تحقیق کرنے آئے۔ ان کو دوبارہ اس علاقے میں لے کر گیا تو پتا چلا کہ گاؤں سے ایک شخص کی بارات پاس ہی کے دوسرے گاؤں گئی ہے اور سب لوگ وہاں ہیں۔ جب وہاں پہنچے تو کھلے میدان میں باراتی چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ ’انگریزوں‘ کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ میرا انہیں وہاں آنے کا مطلب بتانا ہی تھا کہ انہوں نے ایسی حرکت کی کہ چند لمحوں کے لیے مجھے لگا کہ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ میرے ساتھی صحافیوں اور فوٹوگرافر کا بھی یہی حال تھا۔ سفید کرتے شلوار اور ہاتھوں میں گانے باندھے ہوئے لوگوں کی ایک قطار ایک طرف سے قمیض اٹھائے ہمارے سامنے کھڑی تھی اور سب کے جسموں پر ایک ہی طرح کا ترچھا نشان لگا ہوا تھا۔ سب کے سب ہی اپنا ایک ایک گردہ بیچ چکے تھے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے لکھی جانے والی اعضا کی تجارت اور گردوں کی پیوندکاری کی رپورٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اس رپورٹ میں شامل ہیں ان مردوں اور عورتوں کے انٹرویو جو غربت سے تنگ آ کر کچھ روپوں کے لیے ایک گردے سے تو ’نجات‘ حاصل کر چکے ہیں لیکن غربت سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔

اس میں پاکستان میں موجود گردوں کے ماہرین سے پوچھا گیا ہے کہ ملک میں گردوں کی بیماری کی شرح کتنی ہے اور کب یہ ’جسمانی سے سماجی بیماری‘ بن جاتی ہے۔ اعضا کی تجارت کس نہج پر ہے اور اسے روکنے کے لیے کیا تدابیر ہو سکتی ہیں۔ گردوں کے بارے میں ریسرچ کہاں تک ہو چکی ہے اور کیا سٹیم سیل ریسرچ سے گردوں کی بیماری سے کسی حد تک نجات مل سکتی ہے۔

پاکستان میں اعضاء کے لین دین کے متعلق قانون ابھی تک پاس کیوں نہیں ہو سکا جبکہ پوری دنیا جس میں سعودی عرب سمیت بیشتر اسلامی ممالک بھی شامل ہیں یہ قانون پاس کر چکے ہیں۔ اگر اس سال کے آخر تک یہ قانون پاس ہو گیا، جیسا کہ کہا جا رہا ہے تو یہ کس شکل میں ہو گا۔ کیا اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں ہیں؟

اس خصوصی رپورٹ میں ایک انٹرویو ایک ایسی خاتون کا بھی ہے جنہوں نے اپنے قریبی دوست کو گردوں کی تکلیف سے نجات اور روزانہ ڈائلسس کی اذیت سے نکالنے کے لیے کسی ڈونر سے گردہ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ گردہ خریدا بھی گیا اور بیمار شخص کو لگایا بھی گیا لیکن بدقسمتی سے وہ شخص زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکا۔ پڑھیئے گا کہ انہیں ڈونر کس طرح ملا اور اس کا کیا مطالبہ تھا۔

اور آخر میں ایک رپورٹ ہے ’کڈنی ٹورازم‘ پر۔ اس میں ذکر ہے لاہور کے ایک ہسپتال کی اس ویب سائٹ کا جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’آپ کا کڈنی ٹرانسپلانٹ‘ کس طرح ہو گا، آپ کو کون کون سے مرحلوں سے گزرنا پڑے گا، کتنا خرچہ آئے گا (امریکی ڈالروں میں)، ہوائی اڈے سے ہسپتال تک ٹرانسپورٹ دی جائے گی اور اس کا خرچہ کیا ہو گا اور اگر آپ کو زیادہ رکنا پڑا تو اضافی چارجز کتنے ہوں گے۔

یہ سب رپورٹیں وقفے وقفے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع ہوتی رہیں گی اور پھر بعد میں آپ انہیں ایک مکمل رپورٹ کی شکل میں ایک جگہ بھی پڑھ سکیں گے۔ اس سلسلے میں آپ ہمیں اپنی آراء بھی انہی صفحات کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد