 |  کئی ڈاکٹروں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پیسے کے لین دین میں ملوث ہوتے ہیں |
کیا پیسے کے لیے اپنا ایک گردہ بیچنا کوئی غلط کام ہے؟ اخلاقیات کی رو سے اس کا جو بھی جواب ہو لیکن پاکستان کے علاوہ دنیا کے تقریباً سب ہی ملکوں میں یہ غیر قانونی فعل ہے۔ پاکستان کے کئی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ گردے کا لین دین مریض اور ڈونر کا آپس کا معاملہ ہے۔ اگر ایک گردہ بیچتا ہے تو دوسرا اس کے بدلے اسے ’انعام‘ دیتا ہے۔ تاہم پاکستان کا کوئی بھی ڈاکٹر یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ اس لین دین کا حصہ ہے۔ بلکہ جس ڈاکٹر سے بھی بات کریں وہ اس کی صاف تردید کرتا ہے۔ دوسری طرف اکثر ڈونر کہتے ہیں کہ وہ پہلے ڈاکٹر ہی سے رجوع کرتے ہیں اور کئی جگہ تو پیسے بھی انہیں کلینک سے ہی ملتے ہیں۔ سلطان پور کے محمد بوٹا کا بھی یہی کہنا ہے۔ نام: محمد بوٹا، عمر 40 سال، 36 سال کی عمر میں گردہ بیچا۔ ’ہمارے گاؤں کا ایک آدمی زمینداروں کے قرضوں سے تنگ آ کر بھاگ گیا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ واپس آ گیا اور اس نے زمینداروں کے قرضے بھی واپس کر دیے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ اس نے اس پیسے کا انتظام راولپنڈی کے ہسپتال میں اپنا ایک گردہ بیچ کر کیا ہے۔ ’کیونکہ اس جگہ ماحول مختلف ہے اور تقریباً ہر شخص ہی زمینداروں کے قرضے میں جھکڑا ہوا ہے اور میرا حال بھی مختلف نہیں تھا۔ میں بھی راولپنڈی گیا اور ایک گردہ بیچ کر آ گیا۔ ’ہمارا تعلق سلطان پور کی مسلم شیخ برادری سے ہے اور ہماری برادری کے میاں بیوی ملا کر چالیس کے قریب لوگ اپنے گردے پیسوں کے عوض بیچ چکے ہیں۔ ’راولپنڈی کے ہسپتال میں ڈاکٹر ہم سے ملے، ہم سے مشورہ کیا اور ہمارے ساتھ ایک لاکھ چار ہزار روپے کا سودہ کر لیا۔ خرچہ وغیرہ نکال کر ہم 90,000 روپے کے قریب گھر لے کر آئے تھے۔ ’ کوئی مریض کراچی سے آ رہا تھا اور کوئی سعودی عرب سے۔ ہمارا گردہ لینے والا مریض بھی ہمارے ساتھ ہی تھا لیکن پیسے ہمیں ڈاکٹر سے ہی ملے تھے۔ ’اب میری صحت بہت خراب رہتی ہے اور کوئی محنت والا کام نہیں ہوتا۔ اب میں پچھتا رہا ہوں اور کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں کہ کوئی پیسے کے لیے یہ نہ کرے۔‘ محمد بوٹا کی کہانی بھی ان سے پہلے شائع کی گئی نذیراں بی بی اور ذوالفقار کی کہانی سے مختلف نہیں ہے۔ محمد بوٹا کا گردہ بھی قرض اور غربت تلے دب گیا۔ لیکن اس کہانی نے جس بحث کو جنم دیا ہے وہ ہے ڈاکٹروں کا پیسے کے لین دین میں حصہ لینا یا مریض کے لیے ڈونر مہیا کرنا۔ دو سال قبل برطانیہ میں جنرل میڈیکل کونسل نے ایک سابق جنرل پریکٹشنر یا معالج کو اسی جرم کا مرتکب پایا تھا۔ کونسل نے اس معاملہ کی تحقیقات کے دوران ایک صحافی کا بیان سنا جو بھیس بدل کر ایک ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔ صحافی کا دعویٰ تھا کہ ڈاکٹر نے ان سے کچھ رقم کے عوض ایک زندہ شخص کا گردہ حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
آپ کی آراء
قمر زیدی، کینیڈا کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ بات مریض کی فوری جان بچانے سے شروع کروں یا زمیندار کا قرض ادا کرنے سے۔ ڈاکٹر بھی کیا کریں جب مریض کو کہیں سے گردہ نہیں ملے تو اس سے ہی لے لو جو دے رہا ہے۔ اس تصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ایک زندہ شخص کیوں گردہ بیچ رہا ہے۔ انسانی اعضا کا کاروبار ایک عالمگیر مسئلہ ہے جس میں سب سے زیادہ غریب ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ انسانی اعضا کے کاروبار میں چین کا بھی بڑا نام ہے پاکستان کا پڑھ کر کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی۔ انسانی اعضا کے کاروبار کے وہاں ضرورت پیش آتی ہے جہاں عطیہ دینے کا وجود نہ ہو۔ اور ہم ہیں کہ مرنے کے بعد بھی کچھ دینا نہیں چاہتے۔ نہ کوئی بتانے والا ہے۔ مجھے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں شیخ ایاز کا جنازہ یاد آتا ہے جو جاتے جاتے ہسپتال کو اپنا پورا جسم عطیے کے طور پر دے گیا تھا۔ اور ہمیں ایک اور سبق دے گیا تھا۔ فہیم یونس، امریکہ ہر دوسرے معاشرتی داغ کی طرح گردے بیچنے کے کاروبار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس ’کیوں‘ کا جواب دیں جو یہ ایک انسان کو اس کام پر مجبور کرتا ہے۔ اگر حکومت اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائے تو یہ بے حسی نہ ہو۔ آخر مغربی ممالک کے لوگ گردے کیوں نہیں بیچتے۔ منیر حسین، اسلام آباد میں نے انسانی اعضا کے سلسلے میں مودودی صاحب کا فتویٰ پڑھا تھا جس میں انہوں نے اس کو غلط قرار دیا تھا اور دلائل دیے تھے کہ اس سے زمانہ جہالت والے حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور لوگ انسانی اعضا کے لیے قتل و غارت بھی شروع کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ وقت جس کی انہوں نے نشاندہی کی تھی وہ دستک دے رہا ہے۔ عبدالصمد، اٹک یہ فعل مذہبی اور اخلاقی اعتبار سے ناجائز ہے۔ غربت سے تنگ آ کر انسانی اعضا بیچنا اس فعل کا جواز نہیں ہے۔ عصر علی، جاپان میرے خیال میں یہ ڈاکٹر اچھے ہیں جو گردو کے پیسے تو دے دیتے ہیں۔ لیکن منڈی بہاؤالدین کے ایک جنی ہسپتال میں تو ایک شخص کا اپینڈیکس کے آپریشن کے بہانے گردہ نکال لیا گیا تھا۔ وہ آدمی غریب تھا اس لیے کوئی قانونی جنگ بھی نہ لڑ سکا۔ اب پاکستان میں انسان ڈاکٹروں پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے۔ کامران، پشاور گردہ بیچنا ایک برا فعل ہے۔ اسلام میں بھی اس کی اجازت نہیں ہے لیکن پاکستان میں غربت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ اپنی عزت کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کے حصے بھی بیچنے کے لیے تیار ہیں۔ ریحان، سرحد یہ کوئی اچھا کام نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک آدمی کی زندگی بچتی ہے لیکن دوسرے کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ میں ان سے نفرت کرتا ہوں جو اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کی زندگی سے کھیلتے ہیں۔ مسعود، کیلیفورنیا میرے خیال میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دے کہ ایک گردے کے ساتھ کس طرح زندہ رہا جاتا ہے۔ میں غریب لوگوں کو الزام نہیں دیتا کیونکہ وہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ پڑھے لکھے اور خود غرض لوگ ہر معاشرے میں غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اور اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ یاسر محمود، اٹک اس طرح کے جرائم غربت کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔ فراز قریشی، سندھ پاکستان میں مولویوں، ججوں اور ڈاکٹروں سبھی نے ہی اپنی اپنی دکان کھول ہوئی ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ اپنے مطلب کی ہر چیز کر سکتے ہیں۔ یہ اس معاشرے پر ظلم کہ اگر آپ کے پاس ان لوگوں کے خلاف ثبوت ہیں تو آپ ان پر مقدمہ کیوں نہیں کرتے۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑھے اور بھیانک فراڈ کا کیس۔
اس موضوع پر چھپنے والی کہانیاں |