مریض زیادہ ہیں اور گردے کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال140,000 افراد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے 15,000 کے قریب ایسے لوگ ہیں جن کے گردے بالکل خراب ہو چکے ہوتے ہیں اور اگر ان کا ٹرانسپلانٹ نہ کیا گیا تو ان کی موت ہو جائے گی۔ انہیں ہر حال میں کم از کم ایک گردہ چاہیئے۔ اب گردہ ٹرانسپلانٹ کرانا اتنا مشکل نہیں رہا۔ اب تو سب معلومات انٹرنیٹ پر ہی مل جاتی ہیں۔ لاہور کے ایک ہسپتال کی ویب سائٹ پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کے مریض کے لیے معلومات کچھ اس طرح سے مہیا کی گئیں ہیں۔ ’ٹرانسپلانٹ کا پورا عمل بیس دن میں مکمل ہو گا۔ پہلے دن مریض آئے گا۔ تیسرے دن اسے گردہ دینے والا، چوتھے دن ٹرانسپلانٹ ہو گا، گیارہویں دن ڈونر ہسپتال سے فارغ اور بیسویں دن مریض کو چیک کرنے کے بعد گھر بھیج دیا جائے گا‘۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر اگلا حصہ اخراجات اور اضافی اخراجات کا ہے۔ لاہور کے اس ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ کی فیس ڈالروں میں بتائی گئی ہے۔ جی ہاں 14000 امریکی ڈالر فی آپریشن۔ اور یہ امریکی ڈالر ٹرانسپلانٹ سے پہلے ادا کرنے ہیں۔ ان اخراجات کی تفصیل ساتھ لگے ساتھ لگے اس بکس میں پڑھیئے۔
یہ تو ایک مثال تھی کہ گردوں کا آپریشن اب کتنا آسان ہے۔ صرف ان کے لیے جن کے پاس امریکی ڈالر ہیں اور جو یہ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں کئی ایک پرائیوٹ ہسپتال ایسے بھی ہیں جہاں کھلے عام گردوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے اور کئی جگہ تو ڈاکٹر بھی اس تجارت میں شامل ہوتے ہیں۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولجی اینڈ ٹرانسپلانٹ کے ڈاکٹر ادیب رضوی جو پاکستان میں ٹرانسپلانٹ کے بانیوں میں سے سمجھے جاتے ہیں اس کے بارے میں کہتے ہیں ’سات آٹھ سال پہلے گردوں کی ’خریدوفروخت‘ کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب یہ عروج پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے اسی فیصد تک گردے ڈونیٹ کرنے یا دینے والے خون کے رشتہ دار ہوتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بیس فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ اسے بالکل چھپاتے بھی نہیں اور کھلے عام کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارا ریٹ ہے۔ ہم ڈونر مہیا کریں گےاور اسکے اتنے پیسے لگیں گے۔ یہ بالکل کھلا بزنس ہے‘۔ لیکن لاہور میں واقع مسعود ہسپتال کے ڈاکٹر محمد رفیق ذکی جو ایک ہزار سے زائد آپریشن کر چکے ہیں کہتے ہیں کہ اسے ایک کھلی تجارت کہہ دینا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ معاملہ اتنا سیدھا یا آسان نہیں ہے۔ گردہ لینے اور دینے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اس کو روکنا کوئی آسان کام نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحث بھی ٹھیک نہیں کہ ہمیشہ خون کے رشتہ دار ہی گردہ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کیڈیویرک لاء رائج ہے اور اس میں مردے کے جسم سے اس کے گھر والوں کی مرضی سے اعضاء نکال لیے جاتے ہیں۔’ کیا مردہ رشتہ دار ہوتا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جو بھی لوگ دوسروں کو اپنے اعضاء دیتے ہیں اس کے بدلے مریض انہیں کوئی نہ کوئی انعام یا فائدہ ضرور دیتا ہے۔ ’بھائی دوسرے بھائی یا بہن کو بزنس کرا دیتا ہے، جائداد میں سے اسے کچھ حصہ دے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے یہ کہنا کہ کوئی گردہ خرید کر غلط کام کر رہا ہے ایک مشکل بات ہے‘۔ ڈاکٹر ذکی کا کہنا ہے کہ یہ مریض اور ڈونر کا اپنا معاملہ ہے۔ ان کے بقول جب تک معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ نہیں بدلے گا اس طرح کا کام ہوتا رہے گا۔ ’ایک شخص غریب ہے اور غربت سے مر رہا ہے۔ دوسری طرف ایک شخص بیمار ہے اور بیماری سے مر رہا ہے۔ دونوں نے ہی کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہے۔ اگر اسے اچھی نظر سے دیکھا جائے تو دونوں اپنی اپنی زندگی بچانے کے لیے یہ کام کر رہے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ آپ اسے روک سکتے ہیں یا یہ کوئی مسئلہ ہے‘۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف یورولوجی ڈاکٹر احمد سلمان وارث کے مطابق گردوں کی ٹرانسپلانٹ میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ ان کی دستیابی کا ہے۔ ’مریض زیادہ ہیں اور گردے کم۔ اسی لیے گردوں کی خریدوفروخت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘۔ ڈاکٹر سلمان کا کہنا ہے کہ گردوں کی تجارت کے فروغ کی دوسری بڑی وجہ غربت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے کوئی یہ تصور ہی نہیں کرسکتا کہ ایک دم اتنا پیسہ مل جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی صحت پر بھی کوئی خاص برا اثر نہیں پڑے گا تو وہ فوراً ہی تیار ہو جاتا ہے۔ بلکہ خاندان کے اکثر افراد یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں اخبارات میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ تاہم ڈاکٹر سلمان ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ لوگ ہمیشہ پیسے کے لیے ہی گردے دیتے بہت سے ایسے ہیں جو کسی فائدے کے بغیر بھی گردے دیتے ہیں۔ ان کے پاس کئی بھائی بہن اور دوست بھی آئے جو اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کی جان بچانے کے لیے اپنے گردے دینے کے لیے تیار تھے۔ ڈاکٹر سلمان کہتے ہیں کہ گردوں کے ٹرانسپلانٹ اور دستیابی کے متعلق کوئی بھی واضح خط کھینچنا بہت مشکل ہے۔ جن ملکوں میں اس کے بارے میں قانون ہے وہاں خریدوفروخت تو کم ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی دستیابی بھی۔ ڈاکٹر سلمان بھارت کی مثال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اعضاء کے متعلق قانون 1993 میں پاس ہوا تھا۔ اور دوس سال بعد جہاں پہلے 8000 سالانہ ٹرانسپلانٹ آپریشن ہوتے تھے وہ کم ہو کر 5000 تک آ گئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مریض بھی متاثر ہوئے کہ اب کم دستیابی تھی اور کم آپریشن۔ پاکستان میں کیڈیور لاء سے پہلے کچھ کہنا مشکل لگتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر سلمان کا بیان اس وقت ایک کڑوا سچ ضرور لگتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ یا امیر ممالک سے لوگ ان ممالک میں جاتے ہیں جہاں زندہ رہنے کے لیے اعضاء آسانی سے خریدے جا سکتے ہیں۔ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے گردہ خریدہ ہے اور بالکل ٹھیک ہے؟ اور اگر آپ نے خود خریدا ہے تو ہمیں اپنا تجربہ لکھیں۔ آپ کی آراء ریاست علی گھمن، سرگودھا خالد ظہور، رحیم یار خان مصطفیٰ کمال، پاکستان جانی خان، ہانگ کانگ، چین اس موضوع پر چھپنے والی کہانیاں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||