سٹیل مل: ازسرِنو نجکاری منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف کے سات سالہ دور میں بدھ کو اسلام آباد میں پہلی مرتبہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سٹیل ملز کی از سرنوِ نجکاری کی منظوری دی گئی۔ اس آئینی ادارے کے اجلاس میں وزیر اعظم کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائےاعلٰی نے بھی شرکت کی۔ صوبائی رابطوں کے وزیر سلیم سیف اللہ خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس اجلاس میں حکومت کی نجکاری کی پالیسی کی منظوری دینے کا ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا گیا۔ سلیم سیف اللہ خان نے کہا کہ وزیرِاعلٰی سرحد نے نجکاری کے حوالے سے کچھ تحفظات پیش کیئے تھے جنہیں دور کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سرحد کے وزیرِاعلٰی اکرم خان درانی نے منافع بخش سرکاری صنعتوں کو بیچنے کی مخالفت کی تھی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف دائر کیئے جانے والے مقدمے میں حکومت سے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو بلا کر آئینی تقاضے کو پورا کرنے کو کہا تھا۔ مشترکہ مفادات کونسل وہ آئینی ادارہ ہے جسے انیس سو تہتر کے آئین کے تحت صوبوں کے باہمی اور وفاق کے ساتھ معاملات کو طے کرنے کے لیئے قائم کیا گیا تھا اور اس کا اجلاس منعقد کرنا آئین کے تحت لازمی ہے۔ تہتر کے آئین کے تحت قائم ہونے والے اس ادارے کا پہلا اجلاس اگست انیس سو پچھہتر میں ہوا تھا جو تین دن تک جاری رہا تھا اور اس کے بعد سے اب تک مشترکہ مفادات کونسل کے صرف گیارہ اجلاس ہو پائے ہیں۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کا آخری اجلاس انیس سو اٹھانوے میں ہوا تھا۔
سی سی آئی کے اجلاس کے بعد کابینہ کا اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور حملوں میں معصوم شہریوں اور بچوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی گئی۔ کابینہ نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے لبنان کی حکومت اور لوگوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ کابینہ نے اقوام متحدہ، اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ لبنان میں جنگ بندی اور امن کی بحالی کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اجلاس کے بعد اخبار نویس کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے لبنان کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیئے امدادی اشیاء اور دوائیوں سے بھرے چار سی ون تھرٹی طیارے لبنان بھیج دیئے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے خواتین کے تحفظ کے لیئے ایک بل کی بھی منظور دی جو بہت جلد پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے صوبائی اور وفاقی وزراء اور مشیروں کے استعفوں کا معاملہ بھی کابینہ میں زیر بحث آیا اور وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایم کیو ایم سے ہونے والی بات چیت سے کابینہ کو آگاہ کیا۔ محمد علی درانی نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے کے جلد حل ہونے کی امید ظاہر کی۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سرکاری اتحاد میں شامل تمام جماعتوں سے ہر پندرہ دن بعد ایک ملاقات کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’میگا کرپشن آف مشرف گورنمنٹ‘ 26 July, 2006 | پاکستان لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے20 July, 2006 | پاکستان ہم کیس کریں گے: سٹیل مِلز مزدور25 June, 2006 | پاکستان ’عدالت کے فیصلے کا احترام ہوگا‘23 June, 2006 | پاکستان سٹیل مِلز: سماعت آخری مراحل میں 22 June, 2006 | پاکستان ’سٹیل ملز املاک کا تعین کرائیں‘21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||