BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت کے فیصلے کا احترام ہوگا‘
عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب، روسی کمپنی کے ایم آر وِکٹر اور سعودی کمپنی کے طارق برلاس جنہوں نے کامیاب بولی دی تھی
وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ سٹیل مِل کی نجکاری کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے اور اس میں جو بھی عدالت نے کہا ہو گا اس کی روشنی میں نجکاری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو شفاش رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان اور عدالت کے تمام اداروں کی ذمہ داری کے وہ اس عمل کو شفاش رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ عدالت کے فیصلے میں جو بھی ’ویلِڈ آبزرویشن‘ ہو گی اس پر عمل کیا جائے گا۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے کا نجکاری کے عمل پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت غیر قانونی طریقے سے نجکاری کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں مختلف آرا ہوتی ہیں اور معاملہ جب عدالت کے سامنے لایا جاتا ہے تو وہ قانون کے مطابق اس پر فیصلہ دیتی ہے۔

ویلِڈ آبزرویشن
 عدالت کے فیصلے میں جو بھی ’ویلِڈ آبزرویشن‘ ہو گی اس پر عمل کیا جائے گا
وزیر اطلاعات

اس سے قبل پاکستان کی عدالت عظمی نے سٹیل ملز کی فروخت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ مشترکہ مفادات کونسل کو چھ ہفتوں کے اندر بحال کر کے سٹیل ملز کی نجکاری کے عمل کا از سر نو جائزہ لے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی صدارت میں نو رکنی بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ اس برس مارچ میں پاکستانی، روسی اور سعودی کمپنیوں کے کنسورشیم کو اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے میں بیچے جانے والے معاہدہ غیر قانونی ہے۔

چار ہفتوں تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے سٹیل ملز کی نجکاری کو شفاف جبکہ درخواست کنندگان کی جانب سے اسے متنازعہ قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان وطن پارٹی نے سٹیل ملز کی فروخت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور پارٹی کی طرف سے بیرسٹر ظفراللہ نے دلائل دیے تھے۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے سابق وزرائے قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، شریف الدین پیرزادہ، خالد انور اور وسیم سجاد کو اس مقدمے کی پیروی کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

اس نجکاری کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز کو اس کی موجودہ قیمت سے بہت کم قیمت پر بیچا گیا ہے اور سٹیل ملز کی ملک بھر میں موجود زمین کی قیمت ہی اس پوری نجکاری کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجکاری سے قبل سٹیل ملز کی کم از کم مقرر کردہ قیمت بھی ظاہر نہیں کی جس سے لگتا ہے کہ یہ نجکاری کا عمل غیرشفاف تھا۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ حکومت کی نجکاری کی عمومی پالیسی پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے اور انیس سو ستانوے میں مشترکہ مفادات کونسل کی منظور کردہ نجکاری پالیسی اپنی جگہ قائم رہے گی۔

سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
پاکستان سٹیلاصل خریدار کون ہے
پاکستان سٹیل دراصل کس نے خریدی ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد