’سٹیل ملز املاک کا تعین کرائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل آف پاکستان مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سٹیل ملز کی املاک کا از سر نو اندازہ لگانے کے لیے حکومت کو ہدایت کی جائے۔ یہ استدعا انہوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم نو رکنی بینچ کے سامنے بدھ کے روز سٹیل ملز کی نجکاری کے خللاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران اپنے دلائل سمیٹتے ہوئے دی۔ جس پر بینچ کے رکن جج جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ حکومت کو اگر دوبارہ املاک کی قیمتوں کے تعین کرنے کے لیئے کہا جائے گا تو وہ غیرجانبدارانہ بنیاد پر رپورٹ دیں گے۔اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ عدالت اس مقصد کے لیے غیر جانبدارانہ کمیشن مقرر کرے۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری قانون کے تحت ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں اہم امور کی تفتیش اور تحقیقات کے لیے حکومتوں کو ہدایت کرتی ہیں۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت خود اس مقدمے میں فریق ہے اور عدالت حکومت کو کیسے عدالتی اختیار دے سکتی ہے۔ جس کا اٹارنی جنرل نے واضح جواب نہیں دیا۔ مخدوم علی خان نے ایک موقع پر کہا کہ حکومت نے سٹیل ملز منافع کمانے کے لیے نجی شعبے کے حوالے نہیں کی بلکہ اس کی کارکردگی بڑھانے کے لیے ایسا کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر درخواست گزاروں کی یہ بات ایک لمحے کے لیے مان بھی لی جائے کہ حکومت نے نجکاری میں سٹیل ملز کی کم قیمت وصول کی ہے تو وہ بھی ملکی مفاد میں ہے کیونکہ یہ ملز پاکستان میں ہی رہے گی۔ ان کے مطابق ملز کے خریدار تین کمپنیوں کے کنسورشیم سے حکومت نے تحریری طور پر یہ عہد لیا ہے کہ وہ قوم اور شہریوں کے مفادات کا خیال رکھیں گے اور پچیس کروڑ ڈالر کا سرمایہ لگائیں گہ تاکہ بتدریج سٹیل کی سالانہ پیداوار ایک ملین ٹن سے بڑھا کر تین ملین ٹن کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس برس قبل سٹیل ملز لگی تھی اور ابتدا میں منافع میں چلتی رہی لیکن بعد ازاں خسارے میں چلی گئی۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف درخواست گزاروں کے لیے درست قانونی فورم سندھ ہائی کورٹ تھا لیکن وہ براہ راست سپریم کورٹ میں آئے ہیں۔ انہوں نے منگل کے روز عدالت سے استدعا کی تھی کہ سٹیل ملز کی نجکاری کو مسترد یا منظور کرنے کے بجائے عدالت درمیانہ راستہ اختیار کرے اور بدھ کے روز درمیانے راستے کی تجویز انہوں نے ملز کی املاک کی قیمت کا از سر نو تعین کرانے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے نو رکنی بڑے بینچ کو ایک ماہ ہونے کو ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ حکومت نے نجکاری کو درست قرار دلانے کے لیے چار وزراء قانون کی خدمات حاصل کر رکھیں جن میں سید شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ، وسیم سجاد اور کمال اظفر شامل ہیں۔ جبکہ ایک اور وزیر قانون خالد انور کو نئے خریداروں نے اپنا وکیل مقرر کرر کھا ہے۔ عدالت نے سماعت جمعرات کے روز تک ملتوی کردی اور اب درخواست گزاروں کے وکلا حکومتی وکلا کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیں گے۔ واضح رہے کہ حکومت نے ملک کے سب سے بڑے صنعتی ادارے سٹیل ملز کے پچہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپوں میں فروخت کی ہے۔ سٹیل ملز کی مزدور تنظیموں اور پاکستان وطن پارٹی نے اُسے چیلینج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جو اراضی سٹیل ملز کے پلانٹ کے ساتھ بیچی گئی ہے صرف اس زمین کی قیمت ڈھائی سو ارب روپے بنتی ہے۔ | اسی بارے میں سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر01 June, 2006 | پاکستان پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کیوں؟04 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کا اصل خریدار کون؟08 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز:سماعت آخری مراحل میں13 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز نجکاری، سماعت ملتوی14 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان پیکو عارف حبیب کے سپرد20 June, 2006 | پاکستان پیکو عارف حبیب کے سپرد20 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||