پیکو عارف حبیب کے سپرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سٹیل ملز کراچی کو خریدنے والے کنسورشیم کے رکن اور کراچی میں سٹاک مارکیٹ کے بڑے بروکر عارف حبیب گروپ نے لاہور میں ملک کی سب سے پرانی انجینئرنگ فرم پیکو کے اکیاون فیصد حصص بھی خرید لیئے ہیں۔ پیکو کی لیبر یونین کے مطابق پندرہ سے بیس ارب روپے مالیت کی تجارتی اراضی پر واقع اس انجینئرنگ فرم کے اکثریتی حصص حبیب گروپ نے پانچ کروڑ روپے کے عوض خریدے ہیں۔ مزدور یونین کے مطابق اس سال اپریل سے پیکو انجینئرنگ فرم کا کنٹرول عملی طور پر عارف حبیب گروپ نے سنبھال لیا ہے اور اس کے نو رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں عارف حبیب خود بھی شامل ہیں۔ تاہم اس کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ابھی تک سرکاری افسران ہیں۔ پیکو کے مزدور رہنما امین بھٹی کا کہنا ہے کہ عارف حبیب گروپ نے ڈیڑھ سال پہلے پیکو کے بائیس فیصد حصص (گیارہ لاکھ شیئرز) حکومت کےمیوچل فنڈز این آئی ٹی سے تین روپے چھپن پیسے فی حصص کے حساب سے صرف ساڑھے پینتیس لاکھ روپے میں خریدے تھے۔ مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ این آئی ٹی وزارت پیداوار کی اجازت کے بغیر یہ شیرز فروخت نہیں کرسکتا تھا۔ پیکو کے تیس فیصد حصص اب بھی حکومت کی ملکیت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر این آئی ٹی عارف حبیب کو یہ حصص فروخت نہ کرتا تو وہ اکثریتی حصص کےمالک نہیں بن سکتے تھے۔ پیکو قائم کرنے والے سی ایم لطیف کے بچوں نے این آئی ٹی کی پیکو کے شیئرز کی فروخت کو غیرقانونی قرار دلوانے اور اسے منسوخ کرانے کے لیے ڈیڑھ سال پہلے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا جو اب تک زیرالتواء ہے۔ پیکو مزدور یونین کے مطابق عارف حبیب نے پیکو کے مجموعی طور پر اکیاون فیصد حصص صرف پانچ کروڑ کے عوض خریدے ہیں اور یکم اپریل سے اس فرم کے اکثریتی حصص کا مالک ہونے کی حیثیت سے نو رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اس کے ارکان کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔ پیکو کی دو ہزار کنال اراضی کوٹ لکھپٹ میں جبکہ ڈھائی سو کنال اراضی بادامی باغ میں ہے۔ یہ اراضی لاہور کی مصروف تجارتی جگہوں پر ہونے کی وجہ سے بہت قیمتی ہے اور اس کی مالیت کم سے کم پندرہ سے بیس ارب روپے ہے۔ پیکو کے اثاثوں میں قیمتی تجارتی زمین کے علاوہ گیلوانائزڈ ٹرانسمیشن کھمبے بنانے کا پلانٹ، فرنس، عمارتیں اور درجنوں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس وقت پیکو کے ایک کے سوا تمام یونٹس بند پڑے ہیں جبکہ کوٹ لکھپت میں اس کا ایک کارخانہ بجلی کے ادارہ واپڈا کے لیئے بڑے کھمبے بنارہا ہے۔ حال ہی میں واپڈا نے اسے پچپن کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ معروف صنعتکار مرحوم سی ایم لطیف نے انیس سو چونتیس میں مشرق پنجاب کے قصبہ بٹالہ میں پیکو کی بنیاد رکھی تھی اور قیام پاکستان کے وقت اسے لاہور منتقل کردیا تھا۔ پیکو ملک میں انجینئرنگ مصنوعات بنانے والی پہلی کمپنی تھی جو آئل ٹینکرز، ڈیزل انجن، بائسکل، ٹیوب ویلوں کے ساتھ ساتھ زراعت میں استمعال ہونےوالے بہت سے آلات تیار کرتی تھی اور اس کی بعض مصنوعات امریکہ سمیت دوسرے ملکوں کو بھی برآمد کی جاتی تھیں۔ تاہم انیس سو بہتر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اسے حکومتی کنٹرول میں لے لیا تھا۔ انیس سو چورانوے تک پیکوسولہ انجینئرنگ مصنوعات تیار کرتا تھا اور اس میں پانچ ہزار مزدور کام کرتے تھے جنہیں بعد میں فارغ کردیاگیا تھا۔ پیکو مزدور یونین کے رہنما امین بھٹی اور لیبر پارٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے سپریم کوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سٹیل ملز کی طرح پیکو کی سستے داموں فروخت کی بھی تحقیقات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ عارف حبیب گروپ نے پانچ کنال زمین کی قیمت ادا کرکے سوا دو ہزار کنال زمین کے مالک ادارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فاروق طارق کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیکو جیسی بڑی انجینئرنگ فرم عارف حبیب گروپ کو بیچنے میں بہت رازداری سے کام لیا ہے۔ | اسی بارے میں سٹیل ملز کا اصل خریدار کون؟08 June, 2006 | پاکستان پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کیوں؟04 June, 2006 | پاکستان سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر01 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||