سٹیل ملز نجکاری، سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سٹیل ملز کے خریداروں اور حکومت کے وکلاء نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک عدالت آئینی درخواستوں پر اپنا فیصلہ نہیں سناتی اس وقت تک وہ ملز کا انتظام نہیں سنبھالیں گے۔ اس بات کی یقین دہانی وفاقی حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم نو رکنی بینچ کو خریداروں اور حکومت کے وکلاء سے مشورہ کرکے کرائی۔ عدالت نے مزید سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کردی۔ قبل ازیں جب بدھ کے روز گزشتہ تین ہفتوں سے جاری سماعت وقت کی قلت کے باعث ملتوی کی جارہی تھی تو مزدوروں اور پاکستان وطن پارٹی کے وکلاء نے کہا کہ عدالت نے چودہ جون تک ملز کی انتظامیہ نئے خریداروں کو منتقل نہ کرنے کا حکم امتناعی جاری کیا تھا اور اب اس کی مدت ختم ہورہی ہے۔
حکومت کے وکلاء کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کرنا حکومت کا اختیار ہے اور اگر سٹیل ملز کی نجکاری رد کی گئی تو ملک میں سرمائیہ کاری سخت متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق سٹیل ملز خسارے میں چلنے والا ادارہ تھا اِس لیے اُس کی نجکاری کی گئی۔ حفیط پیرزادہ نے کہا کہ آئین میں مقننہ، عدلیہ اور حکومت کے اختیارات کا تعین کردیا گیا ہے اور کوئی ادارہ کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق اگر کسی ادارے نے مداخلت کی تو وہ غیر آئینی ہوگی۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’ کیا پانچ برسوں سے حکومت نے آئینی ادارے یعنی مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس نہ بلاکر آئین کی خلاف ورزی نہیں کی؟‘ اس کے جواب میں حکومت کے وکیل نے کہا کہ انیس سو ستانوے میں اُس وقت کی حکومت نے اجلاس بلایا تھا اور نجکاری کی پالیسی کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سٹیل ملز کی متنازعہ نجکاری کو پاکستان وطن پارٹی اور ملز کی مزدور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت نے ملز کے پچہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپےمیں بیچے ہیں جبکہ ملز کی ساڑھے چار ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین کی قیمت ہی صرف ڈھائی سو ارب روپے بنتی ہے۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی سٹیل ملز کی نجکاری کا معاملہ پارلیمان میں اٹھایا تھا اور اُسے غیر شفاف قرار دیتے ہوئے حکومت پر قومی اثاثے اونے پونے داموں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ پاکستان سٹیل کے گیارہ تنظیموں پر مشتمل ایمپلائیز ایکشن کمیٹی نے بھی اس نجکاری کو رد کرتے ہوئے نئی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط کرنے سے تاحال انکار کر رکھا ہے۔ حکومت حزب مخالف کے الزامات مسترد کرتی رہی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے شفاف انداز میں کھلی بولی کے ذریعے سٹیل ملز کو روس کی کمپنی میگنیٹو گورک، سعودی عرب کے التوارقی گروپ اور پاکستان کے عارف حبیب گروپ کے ایک کنسورشیم کو سٹیل ملز فروخت کی ہے۔ چیف جسٹس دوران سماعت کہہ چکے ہیں کہ پندرہ جون تک ان درخواستوں پر فیصلہ متوقع ہے۔ اب جیسے مقدمے کی سماعت آخری مرحلے میں داخل ہوئی ہے تو سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت میں جہاں وکلاء اور قانون کے طالبعلم دلچسپی لے رہے ہیں وہاں سیاستدان، مزدور تنظیموں کے نمائندے، سٹیل ملز اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ افسران بھی خاصی تعداد میں دوران سماعت موجود رہتے ہیں۔ میڈیا بھی اس کیس میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے اور عدالتی کمرہ بھرا نظر آتا ہے۔ سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی پیروی کے لیئے حکومت نے چار سابق وزارء قانون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جن میں وزیراعظم کے موجودہ مشیرِ قانون سید شریف الدین پیرزادہ، وسیم سجاد، عبدالحفیظ پیرزادہ اور کمال اظفر شامل ہیں جبکہ نئے خریداروں کی جانب سے بھی سابق وزیر قانون خالد انور وکالت کر رہے ہیں۔ اس کیس میں حفیظ پیرزادہ حکومت اور ان کے چھوٹے بھائی مجیب پیرزادہ مزدوروں کی وکالت کر رہے ہیں اور دونوں بھائی ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ بی بی سی کو اپنے ذرائع سے حصص کی فروخت کی دستاویز کی جو نقول ملی ہیں ان کے مطابق فروخت کیئے گئے اسّی فیصد حصص ماریشس کی ایک کمپنی اور بیس فیصد حصص پاکستان کے عارف حبیب گروپ کے ہیں۔ اس معاہدے میں التوارقی گروپ کا نام کسی بھی جگہ شامل نہیں ہے جبکہ روسی کمپنی کا نام ضمانتی کی فہرست میں ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہی ہیں کہ شاید التوارقی گروپ کو آگے کر کے حزب مخالف کے کسی جلا وطن سیاسی رہنما نے سٹیل ملز خریدی ہے۔ اس طرح کی قیاس آرائی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر قانون رہنے والے خالد انور کی جانب سے خریداروں کا مقدمہ لڑنا بھی معنی خیز ہے۔ تاہم اس بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ اصل حقائق کیا ہیں۔ | اسی بارے میں چینی وزیر اعظم گوادر کیوں نہ گئے02 May, 2005 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کا اصل خریدار کون؟08 June, 2006 | پاکستان مسٹر ٹن پرسنٹ تا ضمیر کا قیدی22 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||