’عدالت فیصلے پرنظر ثانی کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کی جانب سے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیے جانے خلاف حکومت نے جمعہ کے روز عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ مہر خان ملک کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں عدالت سے تفصیلی دستاویزات دائر رکنے کے لیے مہلت بھی طلب کی گئی ہے۔ عدالت نے حکومت کی نظر ثانی کی درخواست پر اعتراضات لگا کر مہلت دے دی ہے اور مہر خان ملک کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر عدالتی اعتراضات کا جواب بھی پیش کردیں گے۔ ادھر خریداروں کے وکیل کی ہدایت پر ایک اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایم اے زیدی کا کہنا ہے کہ وہ بھی سنیچر کے روز نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ واضح رہے کہ رواں سال اکتیس مارچ کو جب حکومت نے ملک کے ایک بڑے صنعتی ادارے سٹیل ملز کے پچہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ ایک کنسورشیم کو اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ روپوں میں بیچنے کی منظوری دی تھی تو پیپلز مزدور یونین اور پاکستان وطن پارٹی کے بیریسٹر ظفراللہ خان نے اُسے عدالت میں چیلینج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں نو رکنی بڑے بینچ نے چار ہفتوں تک سماعت کے بعد تئیس جولائی کو مختصر حکم سناتے ہوئے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیا تھا۔ سٹیل ملز پاکستان کے عارف حبیب گروپ، سعودی عرب کے التوارقی اور روس کی کمپنی میگنیٹوگورسک پر مشتمل کنسورشیم نے یہ ملز خریدی تھیں۔ عدالت میں ایسے ثبوت بھی مہیا کیے گئے تھے کہ خریداروں نے ماریشس میں رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی کو اپنے بیشتر حصص بیچ دیے تھے اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اصل خریدار کون ہے؟ سپریم کورٹ نے آٹھ اگست کو تفصیلی فیصلے جاری کیا تھا جس میں سٹیل ملز کی نجکاری کو قانون کی سنگین خلاف ورزی اور بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ حکومت نے عجلت میں سٹیل ملز کم قیمت پر بیچی جس سے خریداروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا۔ حکومت اور خریداروں نے پاکستان کے انتہائی مہنگے چار وکیل جوکہ ملک کے وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں ان کی حدمات حاصل کی تھی لیکن پھر بھی فیصلہ ان کی خواہشات کے برعکس آیا۔ بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ نظر ثانی کی درخواست اس صورت میں دائر کی جاتی جس معاملے میں عدالت میں کوئی بڑا ثبوت پیش نہ کیا جاسکا ہو یا عدالت نے کسی اہم پہلو یا نکتے پر غور نہ کیا ہو۔ لیکن ان کے مطابق سٹیل ملز کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے نو ججوں نے تفصیل سے سنا تھا اور اس میں نظر ثانی کی درخواست دائر کیے جانے کی ان کے بقول ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ پہلے حکومت کہتی رہی کہ وہ صدقِ دل سے عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اس پر عمل کرے گی۔ |
اسی بارے میں ’نجکاری میں قابلِ اعتراض عجلت‘08 August, 2006 | پاکستان لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے20 July, 2006 | پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کے بعد کشیدگی09 April, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر01 June, 2006 | پاکستان پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کیوں؟04 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز:سماعت آخری مراحل میں13 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز نجکاری، سماعت ملتوی14 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||