لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے پر جہاں مل کی بٹھیوں میں کام کرنے والے مزدور بے حد خوش نظر آتے ہیں وہاں ایئر کنیڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے افسران بھی مطمئن ہیں۔ پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ، اس کی مخالفت اور پھر سپریم کورٹ کا نجکاری کے کالعدم قرار دینے سے پاکستان میں نجکاری کی عمل ایک نئی صورت خال اختیار کر گیا ہے۔ ہر کوئی سوال اٹھا رہا ہے کہ ’اب کیا ہو گا‘۔ حکومتی اہلکار پہلے بھی کہتے رہیں ہیں کہ اس طرح کا اقدام غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیئے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گا اور اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ لیکن اس کے برعکس حزبِ اختلاف اور سٹیل ملز کی نجکاری کے مخالف سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خوش ہیں اور اسے سچائی کی فتح کے مترادف دیکھا جا رہا ہے۔ ملک کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں واقع سٹیل ملز میں خام لوہا بنانے والے کارخانے میں ایک بڑا پانا کندھے پر اٹھائے ہوئے مزدور پرویز احمد کہتے ہیں کہ ’صاحب سپریم کورٹ والوں کا اللہ بھلا کرے کہ نجکاری رُک گئی ہے‘۔ لیکن کیا نجکاری واقعی رک گئی ہے؟ اس کا جواب تقریباً ہر کسی کو معلوم ہے اور وہ نہ میں ہے۔ چند روز پہلے تک جب مقدمہ چل رہا تھا تو مزدور رہنماؤں کے مطابق سٹیل ملز کے بیشتر مزدوروں میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی۔ لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ فی الحال خطرہ ٹل گیا ہے۔ مزدور تنظیموں کی ایکشن کمیٹی کے ایک سرکردہ رہنما عبدالستار بٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے خریدار بیشتر ملازمین کو فارغ کرتے اور یہی وجہ تھی کہ مزدور چھانٹی کے ڈر سے خوفزدہ تھے۔ سٹیل کہانی روس کے تعاون سے انیس سو تہتر میں بننے والی پاکستان سٹیل ملز کا سنگِ بنیاد تو اس وقت کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا لیکن جب ملز کا تمام کام مکمل ہوگیا تو انیس سو پچاسی میں افتتاح فوجی صدر ضیاءالحق نے کیا تھا۔
ابتدا سے تاحال سٹیل ملز کے چیئرمین چاہے وہ ریٹائرڈ فوجی ہوں یا سویلین بیوروکریٹ ان پر بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ مقدمات بھی بنتے رہے اور ملک کی سب سے بڑی فولاد تیار کرنے والی یہ صنعت اکثر اوقات خسارے میں رہی اور اِس خسارے کی وجہ سے ہی حکومت نے سٹیل ملز کو نجی شعبے کے حوالے کیا۔ جسے سپریم کورٹ نے کاالعدم قرار دیا۔ سٹیل ملز کی نجکاری کے بارے میں بہت سارے سوالات اٹھائے گئے اور حزب مخالف کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور مزدور تنظیموں نے اس قومی اثاثے کو منظور نظر افراد کے ہاتھوں اونے پونے داموں فروخت کرنے کے الزامات لگائے۔ تاہم حکومت ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی۔ حکومت نے سٹیل ملز کے پچہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے میں سعودی عرب کی کمپنی التوارقی، روس کی کمپنی میگنیٹو گورسک اور پاکستان کے عارف حبیب پر مشتمل کنسورشیم کو فروخت کردی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران مزدوروں کے وکلاء نے کہا تھا کہ ساڑھے چار ہزار ایکڑ کے قریب جو زمین سٹیل ملز کے پلانٹ کے ساتھ بیچی گئی ہے صرف اس کی قیمت ڈھائی سو ارب روپے بنتی ہے۔ سٹیل ملز کے موجودہ چیئرمین عبدالقیوم نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ نجکاری میں ملز کی قیمت کا تخمینہ لگاتے وقت زمین کی قیمت نہیں لگائی گئی تھی۔ ان کے مطابق سٹیل ملز لگانے پر چوبیس ارب روپے خرچ ہوئے اور ڈالرز کی قیمت پہلے کم ہونے کی وجہ سے ڈالر ٹرم میں اس کی لاگت دو ارب ڈالر بنتی ہے جبکہ نجکاری میں بولی چھتیس کروڑ بیس لاکھ ڈالر لگائی گئی۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملز کی خریداری میں نادانستہ طور پر بے قائدگی ہوئی اور اُسے آپ ’کمیشن یا اومیشن‘ جو بھی کہیں وہ ایماندارنہ تصور کی جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ ’ایماندارانہ غلطی‘ کس نے کی۔ حزب مخالف کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ چین سے ریلوے کے انجن اور بوگیاں خریدنے سے لے کر سٹیل ملز کی نجکاری تک جہاں بھی اربوں روپے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا معاملہ آتا ہے تو حکومت کہتی ہے کہ اُسے ’ایماندارانہ غلطی، یا Honest mistake or Mistake in good faith مانا جائے۔ ان کے بقول ایسا اس لیئے کہا جاتا ہے کہ ایسی غلطیوں میں ریٹائرڈ فوجی شامل ہوتے ہیں پھر وہ چاہے لیفٹیننٹ جنرل ( ر) جاوید اشرف قاضی ہوں یا عبدالقیوم۔
حکومت کی شفاف نجکاری کے متعلق حزب مخالف، مزدور یونین اور دیگر متعلقہ افراد یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ جب صدر جنرل پرویز مشرف کے سن دو ہزار تین میں دورہ روس میں سٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیئے یاداشت نامے پر دستخط ہوئے اور متعلقہ کمپنی نے دو ہزار چار میں سولہ کروڑ ڈالر لگانے کی پیش کش کی اور پلاننگ کمیشن یکم فروری دو ہزار پانچ تک اس کی حمایت کرتا رہا اور سٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی اس کی حمایت کی تو پھر اچانک وزیراعظم شوکت عزیز نے دس فروری کو ملز کا بورڈ کیوں توڑ دیا؟
سٹیل کا کاروبار کرنے والے ممریز خان کہتے ہیں کہ سٹیل ملز کی عجلت میں نجکاری کی مخالفت کرنے والے بورڈ کے اراکین کو ہٹاکر سات فروری کو نیا بورڈ بنایا گیا اور دس فروری کو وزیراعظم نے نئے بورڈ کے اراکین سے ملاقات میں کہا کہ اس ملز میں سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں یہ ’فاسٹ ٹریک پرائویٹائیزشن پروجیکٹ‘ ہے۔ ان کے مطابق روس کی کمپنی کے علاوہ چین اور آسٹریلیا کی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کرنے اور ملز کی پیداواری گنجائش بڑھانے کی پیش کش بھی کی لیکن حکومت نے انہیں بھی ٹال دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وزیراعظم نے فاسٹ ٹریک نجکاری کی بات کی تو اس وقت کے نجکاری کے متعلق وزیر حفیظ شیخ بھی جلد بازی میں سٹیل ملز کی نجکاری کی مخالفت کرتے رہے اور جب انہوں نے وزارت چھوڑ دی تو سٹیل ملز کی نجکاری کا عمل اچانک تیز ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وزیرِ نجکاری نہیں تھا تو سٹیل ملز کی بولی کی تاریخ کس نے اور کیوں طے کی؟ انہوں نے دستاویز فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اکتیس مارچ کو ملز کے فروخت کی بولی ہونی تھی اور تیس مارچ کو ٹیلی کمیونیکشن کے وزیر اویس لغاری کو نجکاری کا اضافی چارج دیا گیا اور منظورِ نظر کنسورشیم کو کامیاب بولی دہندہ قرار دیتے ہوئے آدھے گھنٹے میں ’لیٹر آف ایکسیپٹنس‘ جاری کیا گیا۔ نجکاری کے قوانین کے مطابق کامیاب بولی دہندہ کو بولی بڑھانے کا کہا جاتا ہے اور کسی بھی بولی کی منظوری پہلے نجکاری بورڈ سے حاصل کی جاتی ہے اور بعد میں کابنیہ کی نجکاری کمیٹی سے توثیق کرائی جاتی ہے۔ لیکن سٹیل ملز کے کیس میں ایسا نہیں ہوا۔ حکام کہتے ہیں کہ اس ’شفاف نجکاری‘ کی سیکریٹری نجکاری کمیشن تحسین اقبال نے بھی مخالفت کی تھی لیکن یکم اپریل کو ان کا تبادلہ ہوگیا۔ یہ سب سوالات جب نجکاری کے وزیر زاہد حامد سے پوچھے تو انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ قانون کے مطابق اور مجاز حکام کی منظوری سے ہوا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سیکریٹری نجکاری کے تبادلے کا سٹیل ملز سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں قانونی کوتاہیوں کی تحقیقات کا آغاز عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد ہوگا۔ یاد رہے کہ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ سٹیل ملز خریدنے والے کنسورشیم میں شامل عارف حبیب نے وزیراعظم شوکت عزیز کی انتخابی مہم چلائی تھی اور لاکھوں روپے بھی خرچ بھی کیئے تھے۔ ( آئندہ قسط میں آپ سٹیل ملز میں بدعنوانی اور خسارے کے بارے میں پڑھ سکیں گے کہ اٹھارہ ارب روپے کی کرپشن ہوئی کہ نہیں اور احتساب بیورو نے اس کے متعلق کیا کیا؟) |
اسی بارے میں ہم کیس کریں گے: سٹیل مِلز مزدور25 June, 2006 | پاکستان ’عدالت کے فیصلے کا احترام ہوگا‘23 June, 2006 | پاکستان ’سٹیل ملز املاک کا تعین کرائیں‘21 June, 2006 | پاکستان پیکو عارف حبیب کے سپرد20 June, 2006 | پاکستان سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر01 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||