BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نجکاری میں قابلِ اعتراض عجلت‘

سٹیل ملز
سٹیل ملز کا پلانٹ تقریبا ساڑھے چار ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ملک کے بڑے صنعتی ادارے سٹیل ملز کی نجکاری کو قانون کی سنگین خلاف ورزی اور بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

عدالت نے سٹیل ملز کو حکومت کی جانب سے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے فیصلے کو تئیس جون کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اسے مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظوری کے بعد شفاف طریقے سے نجی شعبے کے حوالے کرنے کو کہا تھا۔ تام عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ منگل کو جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سٹیل ملز کی قیمت کا تخمینہ کم لگانے اور اس میں ہزاروں ایکڑ زمین کی قیمت شامل نہ کیئے جانے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے نجکاری میں قابل اعتراض عجلت کی اور خریداروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا۔

یاد رہے کہ حکومت نے رواں سال تیس مارچ کو سٹیل ملز کے پچھہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ سعودی عرب کے التوارقی، پاکستان کے عارف حبیب گروپ اور روس کی ایک سٹیل کمپنی میگنیٹوگورسک پر مشتمل کنسورشیم کو چھتیس کروڑ تیرہ لاکھ ڈالر ( اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ روپے) میں بیچنے کی منظوری دی تھی۔

ایسی نجکاری کی کوئی ضرورت نہیں
 مالی سال سن دو ہزار دو اور تین کے بعد مسلسل تین برسوں تک اس ملز نے بارہ ارب ساٹھ کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے اس لیئے قابل اعتراض عجلت میں مندرجہ بالا خریداروں کو اربوں روپے کے مالی فوائد دیتے ہوئے ملز کی نجکاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سپریم کورٹ

عدالت نے اسّی صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ بات عیاں ہے کہ پونے پچیس ارب روپے کی لاگت سے انیس سو اڑسٹھ میں قائم ہونے والی سٹیل ملز کے بولی دہندہ کوئی اور ہیں اور خریدار کوئی اور۔ ان کے مطابق بولی کے لیے اہل قرار پانے کے بیان کے مطابق صرف عارف حبیب اور التوارقی کنسورشیم میں شامل تھے لیکن جب بولی لگائی گئی تو اس میں روسی کمپنی کو شامل کیا گیا جو کہ خلاف قانون ہے۔

عدالت کے مطابق بظاہر تینوں خریدار کمپنیوں کے کنسورشیم سے بعد میں ماریشس میں رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی نے سٹیل ملز کے حصص خرید لیے جبکہ ضمانتی کے طور پر الاتفاق سٹیل پروڈکٹس سعودی عرب کا نام بھی شامل ہے اور ایسے میں معاملات خاصے مشکوک لگتے ہیں۔

تیس مارچ کو ہونےوالی سٹیل ملز نجکاری کے کامیاب بولی دہندگان

سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک روزانہ سماعت کے بعد متفقہ فیصلے میں لکھا ہے کہ جب سٹیل ملز بیچی گئی تو اس وقت دس ارب روپے کا خام مال سٹاک میں تھا جبکہ حکومت نے ملز کے ذمے سات ارب سڑسٹھ کروڑ کا قرضہ بھی خود ادا کرنے کی ذمہ داری اٹھائی اور ملز کے کھاتے میں ساڑھے آٹھ ارب روپے جو نقد پڑے تھے اس کو بھی حساب میں نہیں لایا۔

عدالت نے مزید لکھا ہے کہ حکومت نے اس کے ساتھ ایک ارب روپے کی ٹیکس کی چھوٹ دینے اور رضاکارنہ طور پر ملازمت چھوڑنے والوں کو پندرہ ارب روپے ادا کرنے کا بھی ذمہ لیا تھا۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق عدالت کے سامنے جو حقائق پیش ہوئے اس کے مطابق جس رقم کے عوض حکومت نے سٹیل ملز کے پچھہتر فیصد حصص بیچے اس سے زیادہ رقم یعنی اکیس ارب ستانوے کروڑ کا فائدہ خریداروں کو پہنچایا گیا اور زمین کی قیمت اس سے علیحدہ ہے۔ عدالت نے سٹیل ملز کے چیئرمین کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے کہ بڑے اداروں کی ’بک ویلیو، اکثر طور پر ٹیکس سے بچنے کے لیے کم ظاہر کی جاتی ہے اور اس بنا پر کسی ادارے کے بیچنے کے لیے مالیت کا تعین نہیں کیا جاتا۔

ملز کے کارکنوں نے بھی اس نجکاری کی شدید مخالفت کی

عدالت نے لکھا ہے کہ جب ان حقائق کی ایک حکومتی وکیل وسیم سجاد نے نفی کی اور عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ صرف زمین کا خریداروں کو خالص منافع کتنا ہوگا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ستر ارب روپے۔ عدالت کے مطابق حکومت نے زمین کی مالیت کا تخمینہ ہی نہیں لگایا تھا اور ان تمام مالی فوائد کے بارے میں نجکاری کمیشن نے دیگر خریداری کے خواہشمند فریقین کو مطلع بھی نہیں کیا۔

عدالت نے نجکاری کو چیلنج کرنے والی پاکستان وطن پارٹی کے وکیل بیریسٹر ظفراللہ کے دلائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ سٹیل ملز کے پاس مرکزی پلانٹ کے علاوہ انیس ہزار ایکڑ قیمتی زمین، پینسٹھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ، ضلع ٹھٹھہ میں چار سٹیل پلانٹ، چالیس لوکوموٹوو، ایک سو ریل کی بوگیاں، دس کلومیٹر ریلوے ٹریک، اٹھانوے کوک اونز اور اسّی نئی گاڑیاں بھی ہیں ۔

عدالت نے مزید لکھا ہے کہ حکومت نے ابتداء میں اکیاون سے چہتر فیصد تک حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں پچھہتر فیصد بیچنے کا فیصلہ کیا۔ نجکاری کمیشن بورڈ نے ملز کی مارکیٹ ویلیو لگانے کو کہا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا اور جب حکومت نے ملز بیچنے کی جو کم از کم رقم طے کی اس وقت تک ملز کی مالیت کے تعین کے بارے میں حتمی رپورٹ بھی نہیں آئی تھی۔

 جب سٹیل ملز بیچی گئی تو اس وقت دس ارب روپے کا خام مال سٹاک میں تھا جبکہ حکومت نے ملز کے ذمے سات ارب سڑسٹھ کروڑ کا قرضہ بھی خود ادا کرنے کی ذمہ داری اٹھائی اور ملز کے کھاتے میں ساڑھے آٹھ ارب روپے جو نقد پڑے تھے اس کو بھی حساب میں نہیں لایا۔حکومت نے اس کے ساتھ ایک ارب روپے کی ٹیکس کی چھوٹ دینے اور رضاکارنہ طور پر ملازمت چھوڑنے والوں کو پندرہ ارب روپے ادا کرنے کا بھی ذمہ لیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ نجکاری بورڈ نے تیس مارچ کو ملز کے پچہتر فیصد حصص ساڑھے سینتیس کروڑ ڈالر یعنی فی شیئر سترہ روپے تنتالیس پیسے میں بیچنے کی سفارش کی لیکن اکتیس مارچ کو کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ان کی سفارش رد کرتے ہوئے فی شیئر قیمت سولہ روپے اٹھارہ پیسے مقرر کی اور اُسی روز عارف حبیب اور دیگر پر مشتمل کنسورشیم کو کامیاب بولی دہندہ قرار دے کر اُسی روز انہیں قبولیت کا خط بھی جاری کر دیا۔

عدالت نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق حتمی بولی کے بعد معاملہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں پیش ہوتا ہے اور کمیٹی میں غور کے بعد قبولیت کا خط جاری کرنے کی منظوری دی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

عدالت کے مطابق انیس ہزار ایکڑ زمین کی مالک سٹیل ملز کا پلانٹ تقریبا ساڑھے چار ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور مالی سال سن دو ہزار دو اور تین کے بعد مسلسل تین برسوں تک اس ملز نے بارہ ارب ساٹھ کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے اس لیئے قابل اعتراض عجلت میں مندرجہ بالا خریداروں کو اربوں روپے کے مالی فوائد دیتے ہوئے ملز کی نجکاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

عدالت نے خریداروں کے بارے میں فیصلے میں لکھا ہے کہ عارف حبیب کے خلاف ضابطۂ فوجداری اور دیوانی کے تحت مقدمات درج ہیں اور وہ سٹاک مارکیٹ کے مصنوعی بحران میں بھی ملوث ہے۔ ان کے خلاف اربوں روپے کا نادہندہ ہونے کے مقدمات بھی درج ہیں۔ عدالت کے مطابق ان کی ایسی ساکھ کا نجکاری کمیشن کو علم بھی تھا اور ایسے شخص کو ملز کسی طور نہیں بیچی جاسکتی۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ عارف حبیب گروپ کے متعلق یہ ریمارکس دیگر معاملات میں استعمال نہیں کیے جا سکتے۔

نوٹ: کراچی میں واقع پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد بی بی سی نے اس بارے میں تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جو چار قسطوں پر مبنی ہے۔ یہ اقساط آپ کل سے وقفے وقفے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر پڑھ سکیں گے اور بدھ کے روز سے روزانہ سیربین میں سن بھی سکیں گے۔

 سٹیل ملزسٹیل کہانی
سٹیل ملز کی نجکاری اور تنازعہ: خصوصی رپورٹ
پیکو کی نجکاری
سستے داموں فروخت پر اٹھتے اعتراضات
پاکستان سٹیلاصل خریدار کون ہے
پاکستان سٹیل دراصل کس نے خریدی ہے؟
سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
اسی بارے میں
پیکو عارف حبیب کے سپرد
20 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد