’دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہی نہ تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ عدلیہ کے بارے میں شکوک پیدا کرے یا کسی ایسے اقدام پر سوال اٹھائے جس کا حل خود عدلیہ نے کرنا ہو۔ سپریم کورٹ کے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودہری کو ’گھر میں نظربند کیے جانے اور ان کے پاسپورٹ ضبط کیے جانے‘ کے بارے میں مختلف خبروں پر اپنے ردِ عمل میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ اب سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے جو اس کو نمٹائے گی۔ انہوں نےجسٹس افتخار چودہری کی ’معطلی‘ کے بارے میں حکومت مخالف ردِ عمل پر کہا اگر لوگ اس سے ہٹ کے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا خیال ہے۔
’میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ ایسی بات بھی کر رہے ہیں وہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اور اس بات کے نتیجے میں وہ ایک اعلٰی ترین عدالت کی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر آئین کو دیکھا جائے تو کسی بھی شکایت کی صورت میں قانونی طریقہ یہی ہے اور اس شکایت کو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہی بھیجا جا سکتا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج جسٹس رانا بھگوان داس کا بھی انتظار نہیں کیا اور معاملہ سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کر دیا، وفاقی وزیر نے کہا کہ جسٹس رانا بھگوان داس نے چھٹی کی دراخواست خود جسٹس افتخار چودہری کو دی تھی اور اس چھٹی کو جسٹس چودہری ہی نے منظور کیا تھا۔
’اگر شکایت آنے کے بعد حکومت معاملے کو التوا میں ڈالتی تو پھر یہ الزام لگتا کہ رانا بھگوان داس کو بیچ میں لانے کے لیے تاخیر کی جا رہی ہے۔ جس وقت شکایت سامنے آئی یہ معاملہ جوڈیشل کونسل کے سپرد ہوگیا اور وہاں جو لوگ تھے وہی اس کو دیکھیں گے۔‘ محمد علی درانی نے کہا جسٹس چودہری کو آرمی ہاؤس طلب نہیں کیا گیا بلکہ وہ کیمپ آفس میں گئے تھے جو صدر کا دفتر ہے۔ جسٹس چودہری نے خود درخواست کی تھی کہ وہ صدر سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ پہلے بھی کئی بار وہاں جا چکے ہیں اور کیمپ آفس میں بھی وہ جوڈیشل رپورٹ لے کر گئے تھے۔ لہذا ان کا وہاں جانا کوئی نئی بات نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جسٹس چودہری کی کیمپ آفس میں موجودگی پر صدر مشرف نے مناسب سمجھا کہ چونکہ ریفرنس ان کے خلاف بھیجا جانا ہے لہذا اس بارے میں ہے خود جسٹس چودہری سے بات کر لی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چونکہ دستاویز کافی تفصیلی تھی لہذا جتنی دیر اسے پڑھنے میں لگی اتنی دیر ’معطل‘ چیف جسٹس وہاں رہے۔
اس سوال پر کہ کیا جسٹس افتخار چودہری پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، محمد علی درانی نے کہا اگر ’معطل‘ چیف جسٹس نے ان دستاویزات کا دباؤ خود محسوس کیا جو ان کو دکھائی گئیں ’تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن چونکہ معاملہ جا ہی سپریم جوڈیشل کونسل کو رہا ہے لہذا دباؤ ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے گھر پر پہرہ کیوں لگایا گیا اور ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے پاسپورٹس کیوں ضبط کیے گئے ہیں تو وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سب میڈیا میں آیا ہے۔ ’وہ جج ہیں کوئی سیاست دان نہیں۔ ویسے پہلے کتنے سیاست دان ان سے ملے ہیں۔ یہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی باتیں ہیں۔وہ اپنے گھر کے اندر ہیں اور ان کے اپنے خاندان کے افراد سے رابطے ہیں۔ جو ججز حضرات ان سے ملنا چاہتے ہیں وہ ان سے مل رہے ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ میڈیا کو ان سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں ہے تو محمد علی درانی نے کہا کہ جسٹس چوہدری سیاست دان نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے جج ہیں اور ’ہماری طرح نہیں کہ میڈیا کے ساتھ پریس کانفرنس شروع کر دیں۔ آپ کا یہ مطالبہ کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے غیر قانونی ہے۔‘ | اسی بارے میں ’کھلی عدالت میں مقدمہ چلائیں‘11 March, 2007 | پاکستان یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک09 March, 2007 | پاکستان معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان ’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘11 March, 2007 | پاکستان جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟09 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||