BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 March, 2007, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟

معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
جنرل پرویز مشرف نےملک کی اعلیٰ ترین عدالتی شخصیت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال کرنے کا الزام لگا کر ان کا معاملہ سپریم جوڈیشیل کونسل کے سپرد کر دیا ہے اور جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

آئین کے مطابق چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں سینئر ترین جج کو سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس بنایا جاتا ہے ۔جسٹس رانا بھگوان داس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چھٹیاں گزارنے انڈیا گئے ہوئے ہیں اور تئیس مارچ کو ملک واپس آئیں گے۔اس وقت تک سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ آ چکا ہوگا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے سپرد کرنے سے پاکستان کے وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ تو پورا ہوا کہ اس ادارے کو اب تک فعال نہیں بنایا گیا اور حکومت اور جج ایک دوسرے کی برائیوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔

انیس سو تہتر کے آئین میں عدلیہ کے ارکان کے احتساب کے لیے جو طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے وہ پاکستان کے تقریباۙ تمام آئینوں میں ایک جیسا ہی تھا، لیکن اسے شاذ و نادر ہی استعمال میں لایا گیا اور حکومت سے تعاون کرنے والے ججوں کی کوتاہیوں پر ہمیشہ پردہ پوشی کی جاتی رہی ہے۔

جسٹس اخلاق کے بارے میں تاثر
 جسٹس اخلاق احمد کے بارے میں ایک تاثر پایا جاتا تھا کہ انہیں بائیں بازو کے خیالات کی وجہ سے عدلیہ سے باہر نکلنا پڑا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی طرح پاکستان کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی تھا اور بائیں بازو کو مٹانے کے لیے اسے امریکی آشیر باد حاصل تھی۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب چیف جسٹس کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے کیا گیا ہے۔ جسٹس افتخار کے علاوہ تین اور واقعات ہیں جب عدلیہ کے ممبران کے خلاف مقدمے سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے کیے گئے۔

سب سے پہلے 1951 میں جسٹس حسن علی آغا کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھا گیا۔ جسٹس حسن علی آغا نے اپنے مقدمے کا سامنا کیا اور اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت کیا۔

صدر جنرل ایوب خان کے زمانے میں جسٹس اخلاق احمد کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بھیجا گیا اور ان کو اسی بناء پر عدلیہ سے نکال دیا گیا۔

جسٹس اخلاق احمد کے بارے میں ایک تاثر پایا جاتا تھا کہ انہیں بائیں بازو کے خیالات کی وجہ سے عدلیہ سے باہر نکلنا پڑا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی طرح پاکستان کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی تھا اور بائیں بازو کو مٹانے کے لیے اسے امریکی آشیر باد حاصل تھی۔

اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شیخ شوکت کو اس بناء پر عدلیہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا کہ وہ جج ہوتے ہوئے بھی ایک خاندانی کمپنی میں شیئر ہولڈر تھے جبکہ ملکی قانون دو منافع بخش عہدوں پر فائز رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جو الزامات ابھی تک سامنے آئے ہیں ان میں جائیداد سے متعلق ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ بھی ہے جس میں مشہور وکلاء فخر الدین جی ابراہیم اور سابق وزیر قانون خالد انور فریقین کی نمائندگی کر رہے تھے۔

وکلاء کے حلقوں میں اس پر بہت بحث ہو رہی تھی کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں کام کرنے والے بینچ نے کھلی عدالت میں جو زبانی فیصلہ سنایا وہ فیصلہ تحریری فیصلے سے بالکل متضاد تھا۔اس متنازعہ جائیداد کی مالیت کے بارے میں بہت قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔

پاکستان میں اس طرح کے مقدموں کی بازگشت پہلے بھی سنی گئی ہے جو حکومت میں علم میں تھے لیکن ان پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

پاکستانی تاریخ میں پہلا واقعہ
 پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب چیف جسٹس کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے کیا گیا ہے۔ جسٹس افتخار کے علاوہ تین اور واقعات ہیں جب عدلیہ کے ممبران کے خلاف مقدمے سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے کیے گئے۔
جنرل مشرف نے تو اپنے اس چیف جسٹس کا مقدمہ بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو نہ بھیجا جس کی شکایت امریکی وائٹ ہاؤس سے آئی تھی۔ امریکہ نے پاکستان کو ایک خط میں مشورہ دیا کہ اگر پاکستان ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ امریکی کمپنی ویسٹِنگ ہاؤس کے خلاف ہونے والے فیصلے کو تبدیل کرایا جائے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ’معطل‘ ہونے والے چیف جسٹس پروٹوکول کے بہت زیادہ شوقین تھے اور انہوں نے مختلف مواقع پر پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو ہیلی کاپٹر مہیا کرنے پر مجبور کیا۔ یہ بھی کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے۔

جنرل پرویز مشرف جب منتخب صدر رفیق تارڑ کو برخاست کر کے بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے آگرہ گئے تھے تو انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس کو قائم مقام صدر بنایا تھا، جنہوں نے صدارتی پروٹوکول کے ساتھ مری میں چھٹیاں گزارنے پر اصرار کیا۔

جسٹس افتخار کے بیٹے کا بھی ذکر آتا ہے کہ جن کو وفاقی حکومت نے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس سروس میں ایس پی کے عہدے پر بھرتی کیا۔ پاکستان کے حالات میں چیف جسٹس کے خلاف اس طرح الزامات لگانا کافی حیران کن بات ہے۔ ایسے الزامات پہلے بھی چیف جسٹس صاحبان پر بھی لگتے رہے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ کو بھی ایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جنرل مشرف نے اس جج کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہ لیا جس نے سپریم کورٹ میں ہوتے ہوئے معذور افراد کے کوٹے سے اسلام آباد میں پلاٹ لے لیا۔

قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رہے ہیں۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ وہ بلوچ ہیں یا نہیں۔ بلوچ قوم پرستوں کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی تنزلی پر زیادہ غصہ نہیں آئےگا کیونکہ ان کے خیال میں وہ پنجابی آباد کار ہیں۔

جسٹس افتخار محمد نے سٹیل ملز کی نجکاری، خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے لوگوں کو غائب کرنے، بغلچور میں ایٹمی فضلہ ڈمپ کرنے پر حکومت سے جواب طلبی کی۔اسی طرح کے کئی اور مفاد عامہ کے مقدموں کو اٹھا کر عوام کی نظر میں اپنی ایک قدر بنائی۔

آخر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایسا کیا قصور کیا کہ جنرل پرویز مشرف کو وہ کام کرنا پڑا جو ان سے پہلے آنے والے مطلق العنان حکمرانوں نے کرنا پسند نہ کیا؟ پرویز مشرف کو سال 2007 میں اپنے سیاسی مہروں کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دینا ہے اور شاید اس سال وہ کسی بھی ایسے شخص کو برداشت نہیں کریں گے جس پر انہیں معمولی سا بھی شک ہو کہ وہ کہیں کوئی آزادانہ فیصلہ نہ کر دے۔

ُچوہدری افتخارانصاف میں تاخیر
عدلیہ پر اعتماد میں کم ہوگا۔ چیف جسٹس
مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
چیف جسٹسچیف جسٹس معطل
آزادی عدلیہ پر کیا اثر پڑے گا؟ رائے دیں
سالانہ انسانی حقوق رپورٹ’انصاف اور پاکستان‘
حصول انصاف میں درپیش مشکلات پر تشویش
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
میرے قتل کے بعد
انصاف اور معذرت پر وسعت اللہ خان کا کالم
اسی بارے میں
سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس
31 December, 2003 | پاکستان
چیف جسٹس کا ’دماغی معائنہ‘
06 September, 2003 | پاکستان
20 ہزار روپے کے 18 سال
26 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد