BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 August, 2005, 19:56 GMT 00:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
20 ہزار روپے کے 18 سال

میرو
میرو تئیس سال بعد ضمانت پر رہا ہوئے ہیں اور ابھی الزام کا فیصلہ ہونا باقی ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک شخص جن پر اپنے سوتیلے بھائی کے قتل کا الزام ہے 23 سال جیل میں گزارنے کے بعد جمعہ کو ضمانت پر رہا ہوئے۔ یہ قتل ستمبر سن 1983 میں ہوا تھا ۔ملزم کو مظفرآباد میں ایک ضلعی فوجداری عدالت کے حکم پر اس وقت رہائی ملی جب ایک مقامی سماجی تنظیم نے بیس ہزار روپے کی ضمانت جمع کی۔ ملزم میر زمان جو دماغی مرض کے پرانے مریض ہیں ان کی گرفتاری کے وقت ان کے بال کالے تھے اور جمعے کے روز جب رہا ہوئے تو ان کے بال سفید ہوچکے ہیں ۔

میر زمان عرف میرو جنکا تعلق مظفرآباد کے قریب واقع ایک گاؤں سے ستمبر سن 1983 میں اسوقت اپنے ایک سوتیلے بھائی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے جب ان کی عمر سترہ سال تھی۔

مظفرآباد میں ڈسرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے انھیں اسی سال دسمبر میں عمر قید کی سزا سنائی لیکن سن 1987 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کی سزا کو کالعدم قرار دے کر مقدمے کی از سر نو سماعت کا حکم دیا۔

ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ ملزم میر زمان کو بیس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کیا جائے لیکن ملزم کی آج تک اس لیے رہائی ممکن نہ ہو سکی تھی کیوں کہ ان کی طرف سے کسی نے ضمانت داخل نہیں کی۔اس مقدمے کی ازسر نو سماعت بھی مکن نہ ہوسکی کیوں کہ 1987 میں ہائی کورٹ کے طرف سے فیصلہ آنے سے چند ہفتوں قبل ہی یہ معلوم ہوا تھا کہ ملزم ایک دماغی مرض میں مبتلا ہیں۔ اس دوران جیل حکام کہتے ہیں کہ ان کا علاج معالجہ بھی کرایا گیا لیکن وہ صحت یاب نہیں ہو سکے۔

میرو
ان ایک غیر سرکاری ادارے نے ان کی ضمانت کی رقم جمع کرائی ہے

ملزم میر زمان کی 23 سال بعد جمعہ کو اسوقت ضمانت پر رہائی مکن ہوئی جب ایک مقامی سماجی تنظیم مظفرآباد ویلفئیر ایسوسی ایشن نے عدالتِ عالیہ کے 1987 حکم کے مطابق بیس ہزار روپے کی ضمانت جمع کرائی۔ جیل حکام نے میر زمان کو اس سماجی تنظیم کے حوالے کیا۔

رہائی کے بعد ملزم میر زمان کو مظفرآباد میں قائم سی ایم ایچ میں ایک دماغی مرض کے علاج کے لیے داخل کیا گیا جہاں ایک ماہر نفسیات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم دماغی مرض کے پرانے مریض ہیں۔

ملزم کے علاج معالجے کی ذمہ داری پاکستان میں مقیم ایک انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور نے لی ہے۔

ملزم کو ضمانت پر رہائی تو مل تو گئی لیکن ابھی اس قتل کے مقدمے کی سماعت دوبارہ اس وقت شروع ہوگی جب میر زمان صحت یاب ہوں گے۔

دلچسپ بات یہ کہ ابھی میرزمان پر قتل کا صرف الزام ہے لیکن اگر ملزم کے خلاف مظفرآباد کے ضلعی فوجداری عدالت کا سن 1983 کا عمر قید کا فیصلہ قائم بھی رہتا تو انہیں جیل میں صرف چودہ سال گزارنے تھے۔ جیل کے قوانین کے مطابق دن اور رات الگ الگ گنے جاتے ہیں۔ جیل کے اس قانون کے تحت ملزم پہلے ہی 23 سال جو دن اور رات ملا کر چھیالیس سال بنتے ہیں جیل میں گزار چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد