’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے اخبارات چیف جسٹس افتخار چوہدری کی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں اور اخبارات کے اول صفحے پر اسی معاملے کے حوالے سے خبریں شائع ہوئی ہیں۔ پاکستان کے انگریزی روزنامہ دی نیشن نے یہ خبر دی ہے کہ چیف جسٹس کی چھوٹی بیٹی اپنی ایک دوست کے ساتھ ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے تمام اہلِ خانہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح روزنامہ نیشن نے ایک اور خبر میں بتایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس چوہدری افتخار سے پہلے تئیس اور بھی شکایات موجود ہیں جن کی اب تک سماعت نہیں ہوئی۔
دی نیوز نے خبر لگائی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج، جہاں زیب رحیم نے جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف شکایت کی تھی ان کا بیان بھی شائع ہوا ہے کہ ان کی شکایت پر ہی یہ کارروائی ہوئی ہے۔ دی نیوز ہی نے یہ خبر بھی دی ہے کہ جسٹس افتخار کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت خفیہ ہو گی۔ روزنامہ نوائے وقت کی سب سے بڑی سرخی یہ ہے: ’وکلاء کے ملک گیر مظاہرے، عدالتوں کا بائیکاٹ، کل ہڑتال، پرسوں یومِ سیاہ کا اعلان‘۔اسی نوع کی سرخیاں، نیشن، ڈیلی ٹائم اور نیوز نے بھی لگائی ہیں۔ روزنامہ جنگ نے حکومتی موقف خاصا نمایاں طور شائع کیا ہے۔روزنامہ جنگ نے وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے سرخی لگائی ہے کہ ’سپریم کورٹ میں جو ہوا، آئین کے مطابق ہوا۔ کسی بھی ادارے کے خلاف شکایت ہوئی تو ضروری کارروائی کریں گے۔ افتخار چوہدری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے‘۔
جنگ ہی نے سندھ کے وزیراعلٰی ارباب رحیم کا یہ بیان بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے کے جسٹس افتخار کا رویہ ہتک آمیز تھا۔ انہوں نے دھمکا کر ہیلی کاپٹر حاصل کیا اور دوسرے گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کو بھی ان سے شکایتیں تھیں۔ اسی طرح وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی کا بھی بیان روزنامہ جنگ نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ صدارتی اقدام پر تنقید سے اپوزیشن رہنما اور وکلاء توہینِ عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان ’گھر تک محدود، استعفے کے لیے دباؤ‘10 March, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس31 December, 2003 | پاکستان مختاراں مائی’ فوری انصاف کا نشانہ‘ 04 March, 2005 | پاکستان چیف جسٹس کا ’دماغی معائنہ‘06 September, 2003 | پاکستان 20 ہزار روپے کے 18 سال26 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||