’گھر تک محدود، استعفے کے لیے دباؤ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معطل چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے بھانجے ایڈووکیٹ عامر رانا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چیف جسٹس کو پولیس کے سخت پہرے میں ان کی رہائش گاہ تک محدود کردیا گیا ہے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ عامر رانا نے کوئٹہ سے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چیف جسٹس کی رہائش گاہ سخت پہرے میں ہے اور دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ عامر رانا نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی رہائش گاہ پر تمام فون کاٹ دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے اور ان کے گھر والوں کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے گئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق سے ایک بچی کا فون بچ گیا تھا جس پر انہوں نے جمعہ کی شام کو جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بات کی۔ عامر رانا نے بتایا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جمعہ کو آرمی ہاؤس راولپنڈی بلایا گیا تھا، جہاں پر صدر مشرف ان سے تین چار گھنٹے تک ’سودے بازی‘ کرتے رہے اور مختلف مقدمات خصوصاً لاپتہ افراد کے معاملے میں حکومت کے خلاف ریمارکس دینے سے گریز کرنے کی تاکید کی۔
ان کے مطابق لاپتہ افراد کے مقدمات (خارج کرنے) کے حوالے سے جسٹس افتخار پر حکومت کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اس حوالے سے انہیں ’تضحیک کا نشانہ‘ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ صدر مشرف سمیت کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار ’چیف جسٹس‘ پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران حکومت مخالف ’ریمارکس‘ دینے سے اجتناب کریں کیونکہ ایسے تبصروں سے انتخابات کے حوالے سے حکومت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی ایک عدالت میں ہونے والے خود کش حملے اور اس میں ایک جج سمیت سترہ افراد کی ہلاکت پر ’چیف جسٹس‘ صاحب نے بیان دیا تھا کہ معاشی ترقی کی باتیں ایک طرف لوگوں کو تو اپنی جان کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جسٹس افتخار چوہدری پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر (جسٹس افتخار) اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کی نوکری کے حوالے سے لگایا گئے الزام میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔
عامر رانا کے مطابق ڈاکٹر ارسلان نے دو مرتبہ سی ایس ایس (سنٹرل سپیریئر سروسز) کا امتحان دیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران انہوں نے پی سی ایس (پروونشل سول سروسز) کا امتحان پاس کر لیا اور بلوچستان کے محکمہ صحت میں سیکشن افسر کے طور پر تعینات ہوگئے، جہاں سے بعد ڈپیوٹیشن پر ان کا تبادلہ ایف آئی اے (فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی) میں ہو گیا۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر موقع دیا گیا تو حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ غلط ثابت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’ملک کا سب سے بڑا جج انصاف مانگ رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھی سٹیل مل کی نجکاری کو سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیے جانے پر ’چیف جسٹس‘ صاحب سے خوش نہیں تھے۔ | اسی بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان افتخار محمد چودھری: ایک خاکہ09 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟09 March, 2007 | پاکستان افسوسناک فیصلہ: سابق وزیر قانون09 March, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||