’جسٹس چوہدری نظر بند نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر قانون وسیع ظفر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ معطل شدہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار احمد چوہدری کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو سروس نے جب ان سے رابطہ کر کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر اعلانیہ نظر بندی کے بارے میں پوچھا تو وزیر قانون نے جھنجلاہٹ اور انتہائی سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ہماری نامہ نگار عنبر خیری نے جب ان سے دریافت کیا کہ کیا جسٹس چوہدری سے ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے تو وسیع ظفر یہی دہراتے رہے کہ ’آپ لوگوں کو گمرہ کر رہی ہیں۔‘ اسلام آباد سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے حئی کاکٹر نے اطلاع دی ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف جانے والے راستے پر پولیس کا پہرا ہے اور وہ جسٹس کالونی کی طرف جانے والوں کے شناختی کارڈ چیک کر رہے ہیں اور صرف ان ہی لوگوں کو اس طرف جانے دیا جا رہا ہے جو وہاں رہائش پذیر ہیں۔ وزیر قانون وسیع ظفر نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے لحاظ وہ اس معاملے پر ان کا تبصرہ کرنا قانونی طور پر مناسب نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جسٹس افتخار محمد چوہدری سے فون کی سہولت واپس لے لی گئی اور ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے پاس کوئی موبائل بھی تھا۔ | اسی بارے میں ’گھر تک محدود، استعفے کے لیے دباؤ‘10 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟09 March, 2007 | پاکستان افسوسناک فیصلہ: سابق وزیر قانون09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||