ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جمعہ کو معطل کردیا گیا |
پاکستان کے سابق وزیر قانون اور انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کو افسوسناک فیصلہ قرار دیا ہے۔ اقبال حیدر نے کہا ہے کہ اس سے عدلیہ کی آزادی بہت بری طرح متاثر ہوگی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب عدلیہ کی آزادی صلب ہوتی ہے تو عوام کو حقیقی معنوں میں انصاف نہیں ملتا۔ اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد کا رویہ اور باتیں اپنی جگہ اور وہ ایک متنازعہ شخصیت تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن چیف جسٹس کا جو ادارہ ہے وہ زیادہ مقدس ہے۔ سابق وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آئین کی شق 209 میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور اس کی جو ذیلی شق 3 بی ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کاؤنسل تمام ججز کے خلاف قدم اٹھانے کا اختیار رکھتی ہے۔ مگر اس میں چیف جسٹس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابہام موجود ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ریفرنس دائر ہو تو صورتحال کیا ہوگی۔ لیکن اگر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہو تو اس کے بارے میں واضح طور تحریر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب ملک کو سنگین مشکلاتوں کا سامنا اور سخت کشیدگی ہے، اس صورتحال میں چیف جسٹس کی معطلی کے فیصلے سے ملک میں اور کشیدگی پھیلے گی اور عدلیہ کا وقار بھی مجروح ہوگا۔ |