منو بھیل کی مایوسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی نے انصاف کے منتظر کسان منو بھیل کو بھی صدمہ پہنچایا ہے۔ منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے اہل خانہ کے سات افراد کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں ایک زمیندار عبدالرحمٰن مری نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا تھا۔ سویڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ جنوری سن دوہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تاحال انہیں انصاف نہیں ملا۔
چیف جسٹس کی سخت ہدایت پر پولیس نے آخر عبدالرحمان کو گرفتار کیا تھا، جن کا تعلق سندھ کی ایک روحانی شخصیت کی جماعت سے ہے۔ سندھ حکومت کی شخصیات اس اقدام پر ناراض تھیں۔ منو بھیل کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے اقدام سے انہیں یہ احساس ہو چلا تھا کہ اس ملک میں انصاف مل سکتا ہے، مگر حکومت کے اس فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت انصاف نہیں کرنا چاہتی۔ منو بھیل کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں امید تھی کہ ان کا خاندان بازیاب ہوجائے گا اب یہ خدشہ ہے کہ گرفتار زمیندار ضمانت پر رہا ہو جائے گا۔ ’اب جن کے لوگ لاپتہ ہیں وہ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے‘۔
منو بھیل نے جسٹس افتخار کی مبینہ قید پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جو ظلم ہو رہا ہے اس کی سربراہی تو جنرل مشرف خود کر رہے ہیں۔ منو بھیل کے مقدمے کی آئندہ سماعت سولہ مارچ کو ہو رہی ہے مگر منو بھیل کو خدشہ ہے کہ چیف جسٹس کی تبدیلی نے ان کے لیے انصاف میں تاخیر کردی ہے۔ ان کے مطابق ان کے کیس سے جسٹس افتخار محمد ذاتی طور آگاہ تھے، ’اب نیا جج تو اپنی مرضی سے چلے گا‘۔ منو بھیل اس بات پر بھی حیران ہیں کہ اس سے پہلے ان کے خاندان کی بازیابی کے لیے کوشش کرنے والے پولیس افسران کا تبادلہ کیا جاتا تھا مگر اس مرتبہ تو جج ہی کو ہٹا دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||