’کھلی عدالت میں مقدمہ چلائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایئر مارشل (ر) اصغر خان نے کہا ہے کہ انہوں نے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے اپنے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ’تاکہ عوام کو حقائق کا پتہ چل سکے‘۔ ملاقات کے بعد بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے اصغر خان نے کہا کہ یہ ان کی چیف جسٹس سے پہلی ملاقات تھی۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس چوہدری نے بتایا کہ ان کے اخبار اور ٹیلی ویژن بند ہیں، اخبارات فراہم نہیں کیے جارہے۔ اس کے علاوہ غیرفعال چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے احباب اور وکلاء سے ملنا چاہتے ہیں لیکن اس پر بھی پابندی ہے۔ سابق ایئر مارشل نے بتایا کہ ملاقات کے وقت چیف جسٹس کے بڑے بیٹے بھی موجود تھے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت منگل کو ہورہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کو کارروائی سے مکمل طور پر باخبر رکھا جائے۔ اصغرخان نے کہا کہ چیف جسٹس کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور انہیں جس قسم کے حالات سے دوچار کیا گیا ہے وہ قید تنہائی کے مترادف ہیں۔
ریٹائرڈ ایئر مارشل نے کہا کہ ایک کے بعد دوسرے سرکاری افسر کے فون آتے رہے جو یہ کہہ کر انہیں ٹالتے رہے کہ جسٹس افتخار چودھری مختلف میٹنگز اور وکلاء سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ اصغرخان نے کہا کہ اتوار کو سارے دن کے انتظار کے بعد جب وہ چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر پہنچے تو چند باوردی پولیس والوں اور سادہ پوش اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور ان کا نام پوچھنے کے بعد آپس میں صلاح مشورے اور فون پر بات کرنے لگے، اس دوران اصغر خان کے بقول وہ اندر چلے گئے جہاں ڈرائنگ روم میں ان کی افتخار چودھری سے ملاقات آدھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے موقع پر ان کے بڑے صاحبزادے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ریٹائرڈ ایئر مارشل نے کہا کہ اس سے قبل ان کی افتخار چودھری سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ زیادہ پریشان نظر نہیں آرہے تھے اور ان کا رویہ نارمل تھا۔ ان کے مطابق چیف جسٹس نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ فضول الزامات ہیں ان کی اس بات سے اصغرخان نے اتفاق کیا۔ اصغرخان نے کہا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران جسٹس افتخار چودھری کی صدر مشرف سے ملاقات اور ان سے زبردستی استعفوں کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس کی سرکاری رہائش گاہ پر آج بھی تمام دن سکیورٹی اہلکاروں کا پہرہ رہا اور اصغر خان وہ پہلی غیر سرکاری شخصیت ہیں جن کی جسٹس افتخار چودھری سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اس ملاقات کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو مطلع کیا۔ | اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||