’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمود کی سپریم کورٹ آمد اور روانگی کے دوران کیا ہوا؟ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں ہے: ’معطل چیف جسٹس کا قافلہ جب عدالت کے ججوں کے لیے مخصوص دروازے سے اندر داخل ہوگیا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ جانے کی تیاری کرلی لیکن پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا۔ چند ہی لمحوں کے بعد میڈیا کے لوگوں نے دوسرے بند دروازے کے اوپر چھلانگ لگانا شروع کردی۔ میں ان کی پیروی کرنے کا ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک معذور وکیل اور لیڈی رپورٹر نے بھی گیٹ کے اوپر چڑ ھنا شروع کیا۔ پھر تو میرا باہر رہنا بیکار تھا۔ جلوس کی صورت میں وکلا معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو مین گیٹ سے عدالت کے اندرونی احاطے میں لے کر آرہے تھے۔ ان کے نعروں سے عدالت کی عمارت گونج رہی تھی۔ وکلا ’گو مشرف گو، سپریم کورٹ کو رہا کرو، چیف جسٹس کو رہا کرو اور لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس جلوس میں اپوزیشن کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کچھ اراکین بھی شامل تھے۔ جلوس میں شامل کچھ وکلا اور اراکینِ اسمبلی نے جسٹس افتخار چودھری کے گالوں اور ہاتھوں کو بڑے پیار سے چوما۔
میڈیا کی بہت بڑی تعداد نے جسٹس افتخار چودھری کو چند الفاظ بولنے کی گزارش کی جس کو وہ مسلسل ٹالتے رہے۔ جلوس کی شکل میں نعرے مارتا ہوا یہ قافلہ جب عدالت کے دفتری دروازے کے قریب پہنچا تو کافی دیر ہوچکی تھی اور چیف جسٹس خود ہی بول پڑے ۔ انہوں میڈیا اور وکلا کو مخاطب ہو کر کہا آپ کا بہت شکریہ لیکن ابھی مجھے جانے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ مجھے دیر ہوجائے اور جوڈیشل کونسل یکطرفہ فیصلہ سنادے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے مختصر الفاظ میں کہا کہ میں استعفٰی نہیں دوں گا اور اپنا مقدمہ لڑوں گا۔ اس مختصر بات چیت کے بعد انہیں بڑی مشکل سے عدالت کے اندر جانے دیا گیا۔ اسی دوران میں دفتری دروازے کے سامنے رکھے گئے اکثر گملے ٹوٹ گئے اور پھول پتی پتی ہوگئے۔
کچھ وکلا نے آس پاس کے پھول توڑ کر جسٹس افتحار محمد چودھری کے اوپر نچھاور کیے۔ قریباً ڈھائی بجے دوپہر کو وہ اس جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے عدالت کے اندر داخل ہوئے جس کے رکن ججوں پر انہوں نے شدید اعتراضات کا اظہار کیا ہے اور ان پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات لگائے ہیں۔ سرکاری کوڈ ورڈ میں مہمان جب عدالت کے اندر چلا گیا تو وکلا اور میڈیا کے لوگوں نے بھی سانس لی۔ وہ پارک اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ انتظار کی گھڑیاں جب ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں تو سب لوگوں کو اپنی بھوک اور پیاس یاد آنے لگی۔ پارک کو پانی دینے کے لیے لگے ہوئے نل سے باری باری ہم نے پانی پینا شروع کیا۔ جب بھوک لگی تو اسمبلی بلڈنگ کے سٹاف نے پیسے لے کر وہ چاول ہمیں لوہے کی سلاخوں کے اس طرف سمگل کیے جو شاید انہوں نے اپنے لیے بنائے تھے۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کے آثار چار بجے شام کے قریب تب نظر آئے جب پولیس کی بھاری نفری حرکت میں آگئی۔ سارا میڈیا اور پولیس اس بلیک مرسڈیز کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے جو ججوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے اور وہی کار جسٹس افتخار چودھری کو واپس لے جانے کے لیے لائی گئی لیکن چند ہی منٹوں کے بعد اس کار کو ہٹا کر ایک ایم این ای کی پراڈو گاڑی لائی گئی۔ دروازے سے جسٹس افتخار چودھری کے باہر آتے ہی وکلا نے نعرے لگانا شروع کردیے اور میڈیا نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جسٹس نے بات نہیں کی۔ واپسی پر ایک بہت بڑا جلوس بن گیا جو ’مشرف ہائے ہائے اور لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگا رہا تھا۔ جسٹس افتخار کو باہر لانے والی گاڑی کو وکلا نے گھیرا ہوا تھا۔ ان کو آہستہ آہستہ ہٹا کر پولیس نے ان کی جگہ لے لی لیکن چند وکلا پھر بھی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھنے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے وکلا کو لاٹھی چارج سے پیچھے ہٹایا اور جسٹس افتخار کی گاڑی تیز رفتار میں پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کے سامنے پہنچ گئی۔ معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج ملزم کی صورت میں عدالت آئے اور ایک ایسے بڑے جلوس کی صورت میں واپس گئے جو جلوس پاکستان میں آج کل سیاستدانوں کو بھی مشکل سے ہی نصیب ہوتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک09 March, 2007 | پاکستان ’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘09 March, 2007 | پاکستان افسوسناک فیصلہ: سابق وزیر قانون09 March, 2007 | پاکستان جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟09 March, 2007 | پاکستان ’گھر تک محدود، استعفے کے لیے دباؤ‘10 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||