’یہ شک و شبہے کا وقت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے چند دنوں میں پاکستان کے حالات دیکھ کر بار بار اسلام آباد کے مصنف سرمد صہبائی کا ایک پنجابی ڈرامہ یاد آتا ہے جس کا عنوان تھا شک شبہے دا ویلا یا شک شبہے کا وقت۔ اس عجیب و غریب ڈرامے میں ہر کردار ہر وقت سخت پریشانی میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ توبہ توبہ ، اللہ معاف کرے ، یہ شک و شبہے کا وقت ہے ۔ لیکن نہ تو کوئی یہ بتاتا ہے کہ کس بات کا شک، اور نہ ہی کوئی سمجھاتا ہے کے کیا شبہ ہے اور کس پر۔ کیا آج کے پاکستان کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی نہیں؟ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ملک کے چیف جسٹس کی اچانک معطلی کوئی معمولی بات نہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی اتنی بڑی بات ہے جس پر ایک آرمی چیف کی سات سال سے قائم حکومت ہل کر رہ جائے؟ اور خاص طور پر ایک ایسی حکومت جس نے ان سات سالوں میں درجنوں بحران بھگتائے ہوں۔ کیا جسٹس چودھری کی معطلی 9/11 سے بھی بڑا واقعہ ہے جس کے بعد جنرل مشرف نے کمال کامیابی سے پاکستانی خارجہ و داخلی پالیسیوں کا قبلہ ہی بدل ڈالا؟
کیا جنرل مشرف نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی عالمی منڈیوں میں نیلامی کا بحران نہیں بھگتایا؟ اسی دوران انہوں نے وزیرستان میں قبائلی جنگجوؤں کے خلاف دو جنگیں لڑیں، بلوچستان کے بزرگ سیاسی رہنما اکبر بگٹی پر بمباری کر کے ان کو ان کی اپنی ہی پناہ گاہ میں دفن کر ڈالا اور پھر کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی کر کے ان تمام شدت پسندوں کو بے روزگار کر ڈالا جو دور دور سے اس مخصوص ذریعۂ معاش کے لیے پاکستان آ بسے تھے ۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ ایک چیف جسٹس کی معطلی پر اتنا ہنگامہ ہوا کہ گویا پوری حکومت ہی ڈانواں ڈول ہو گئی ہو؟ اس سوال کے جواب کے لیے کیوں نا ایک اور مشہور مصنف کے جوہر پاروں کا سہارہ لیں ۔ لاطینی امریکی مصنف گیبریل گارشیا مارکیز آمر حکمرانوں کی مدتِ اقتدار کے زیروبم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر ہر نیا آمر ایک حساس ، پر عزم اور وعدہ بند حکمران کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک غاصب ہے اور عوامی خوشنودی کا ضرورتمند۔ وہ بھرپور کوشش کرتا ہے کہ اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر رہے اور وہ مفاد عامہ کے لیے وہ سب کچھ کرے جو اس سے پہلے آنے والے نہ کر سکے۔
معصوم عوام جو صرف اور صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اس کے اس جذبے کو سراہتے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی اس کی کاوشوں کی تعریف کرتی ہے خواہ اس کا واحد مقصد کچھ مخصوص خواہشات کا حصول ہی کیوں نہ ہو۔ بہر صورت آمر دن بدن مقبول ہوتا جاتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے آمر خود کو مضبوط تصور کرنے لگتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ بے پناہ سیاسی قوت کا مالک اور ہر طرح کی قانونی پیچیدگی اور روایتی بندھنوں سے آزاد ہے۔ لہذا اس کے پاس اپنی ناکامی کا کوئی جواز نہیں۔ شروع شروع میں وہ خوشامدیوں سے ہوشیار رہتا ہے اور نقادوں کاخیر مقدم کرتا ہے۔ لیکن جب وہ مسائل پر ہاتھ ڈالتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ان کے حل کے لیے اسے جن اداروں کا سہارا چاہیے وہ تمام ادارے تو اس کے اقتدار کے دوام کی کوششوں کی نذر ہو گئے ۔ اس مشکل وقت میں اس کی مدد کے لیے سیاسی گِدھوں کا ٹولا آگے بڑھتا ہے ۔ یہ ٹولا آمر کو یقین دلاتا ہے کہ اس کی ناکامی اصل میں ان کے ناقدین کی ناسمجھی ہے جس پر گھبرانے کی بجائے ان کو سمجھانا یا اگر ضرورت پڑے تو ڈرانا اور دھمکانا چاہیے۔ اس طرح کی باتیں سن کر آمر کا حوصلہ بلند ہوتا ہے اور اس میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ماند پڑنے لگتا ہے۔ اس کے قریبی حلقوں میں حقیقی تبدیلی کے خیر خواہ کم ہونے لگتے ہیں، وہ ہر نقاد کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔ یوں حقیقت سے اس کی دوری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس کا دور اقتدار زوال پذیر ہونے لگتا ہے ۔ اب آئیے لوٹتے ہیں صدر مشرف کی جانب ۔ پچھلے سات سالوں میں ان کے اقتدار پر کیا گزری ؟ صدر مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد کہا تھا کہ ان کے دور میں پاکستانی میڈیا حقیقی طور پر ان کی آنکھوں اور کانوں کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن ابھی انہیں اقتدار سنبھالے دو سال بھی نہ ہوئے تھے کہ پاکستانی مدیران کے ساتھ ایک ملاقات میں انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ان پر تنقید کرنے والے یا تو جاہل ہیں یا ان کے دشمنوں کی شہہ پر ایسا کرتے ہیں۔ ان کے اقتدار کے تیسرے سال کے لگ بھگ وہ تمام لوگ جو پہلے ان سے بحث کرتے اور اچھے برے میں تمیز کی تقلین کرتے آہستہ آہستہ ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ ایک طرف تو 1999 کی بغاوت کے وقت ان کے فوجی ساتھی ایک ایک کر کے ریٹائر ہو گئے اور دوسری طرف ان کے سیاسی حمایتی سکڑتے سکڑتے ضلع گجرات تک محدود ہو کر رہ گئے۔
مشاورت کا حق ان کے چند ذاتی دوستوں تک محدود ہو گیا اور کابینہ وہ گھوڑا بن کر رہ گئی جسے جب چاہیں، جس طرف چاہیں ہانک دیں۔ حقیقت سے ان کی دوری کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہ رہے کہ ان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ اور شاید یہی وجہہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ہٹانا اس قدر سیاسی ہلچل کا باعث بنا ، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں بڑے بڑے سیاسی رہنما راتوں رات ملک بدر ہو جاتے ہیں اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لگتا ہے کہ موجودہ سیاسی ہلچل جسٹس چوہدری کے جانے پر نہیں بلکہ صدر مشرف کی حقیقت سے دوری کی ایک واضح مثال سامنے آنے پر ہے۔ | اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||