BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 March, 2007, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس کے حق میں ملک گیر احتجاج

وکلاء کا احتجاج
کراچی میں سینکڑوں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور صدر مشرف کے پتلے جلائے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف پیر کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں وکلاء نے زبردست احتجاج کیا اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد وکلاء زخمی ہوگئے۔

مختلف وکلاء تنظیموں کے مطالبے پر ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج کے طور پر وکلاء نے عدالتی کام کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا اور منگل کو احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

وکلاء کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی جماعتوں آل پارٹیز کانفرنس کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ منگل کو جب جسٹس افتخار چودھری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت ہوگا اپوزیشن کے رہنما سپریم کورٹ تک احتجاجی واک کریں گے۔

وکلاء نے بھی منگل کو مختلف احتجاجی مظاہروں اور عدالتی کارروائی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں وکلاء کے نمائندوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل کو ’یومِ سیاہ‘ کے موقع پر ہڑتال کریں۔

پیر کو سندھ کے مختلف شہروں کے علاوہ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور لاہور میں جہاں جہاں وکلاء نے احتجاج کیا وہاں صدر پرویز مشرف کے اقدام کی شدید مذمت کی گئی اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

پنجاب اسمبلی میں بھی حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس مسئلے پر اپنی آواز بلند کی۔ صوبائی اسمبلی کے اندر اپوزیشن کے احتجاجی نعروں کے جواب میں حکومتی اراکین نے صدر مشرف کے حق میں نعرے بلند کیے۔ پنجاب اسبملی کی سیڑھیوں پر اپوزیشن اور حکمراں جماعت دونوں کے اراکین نے علیحدہ علیحدہ مظاہرہ کیا۔

پاکستان کے مختلف شہروں سے ہمارے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ وکلاء کی خاصی بڑی تعداد پیر کو سڑکوں پر نظر آئی اور سب سے زیادہ شدت لاہور میں دیکھنے میں آئی جہاں ہائی کورٹ میں وکلاء کا احتجاجی جلسہ ہوا۔

پولیس نے وکلاء کو ہائی کورٹ کی عمارت سے باہر جانے سے روکنے کے لیے عدالت عالیہ کا بڑا دروازہ بند کیا ہوا تھا اور جگہ جگہ پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔تاہم ساڑھے گیارہ بجے کے قریب وکلاء پولیس کی رکاوٹیں زبردستی ہٹا کر ہائی کورٹ سے مال روڈ پر آگئے اور آگے بڑھنے لگے۔

ریگل چوک پر پولیس نے وکیلوں کو روکنے کے لیے ان پر لاٹھیاں برسانا شروع کردیں جس سے سنیٹر لطیف کھوسہ کا سر پھٹ گیا اور کئی وکیلوں کی ٹانگوں اور چہرے پر چوٹیں آئیں۔ لاٹھی چارج سے بیس سے زیادہ وکلاء زخمی ہوئے ہیں۔

سنیٹر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ جنرل مشرف کی غلط فہمی ہے کہ وہ سولہ کروڑ عوام کو اپنے بوٹوں تلے روند سکتے ہیں

لاٹھی چارج کے بعد وکلاء نے ہائیکورٹ چوک میں دھرنا دے دیا اور پولیس نے انارکلی سے گورنر ہاؤس تک سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی اور جگہ جگہ خار دار تاریں لگادی گئیں اس دوران میں وکلاء صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے رہے۔

ہائی کورٹ چوک پر کچھ وکلاء نے ایک بار پھر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے ایک بار پھر لاٹھی چارج شروع کیا۔

اس موقع پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کردیا اور پولیس نے بھی جوابی طور پر ان پر پتھر پھینکے۔

مظاہرہ کے دوران میں پولیس نے چند وکلا کو حراست میں بھی لیا لیکن چند گھنٹے بعد رہا کردیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چودھری افتخار نے بھی زیر حراست وکلاء کا رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

لاہور کے مظاہرہ میں کئی سینئیر وکلاء اور ایسے وکیل بھی موجود تھے جن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

مظاہرہ میں شریک پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چئیرپرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یہ صورتحال شرمناک ہے اور ایک آمر کی وجہ سے پورا ملک بحران سے دوچار ہے۔

زخمی ہونے والے وکیل سنیٹر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ جنرل مشرف کی غلط فہمی ہے کہ وہ سولہ کروڑ عوام کو اپنے بوٹوں تلے روند سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کا خون رنگ لائے گا۔

کراچی میں وکلاء جنرل مشرف کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے

تاہم لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز آفتاب چیمہ کا کہنا ہے کہ وکلاء پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی نہیں ہوئے بلکہ اپنے ساتھیوں کے پتھراؤ سے زخمی ہوئے ہیں۔ان کا موقف تھا کہ پولیس کے سپاہیوں کے پاس لاٹھیاں نہیں بلکہ چھڑیاں تھیں۔

پنجاب بار کونسل کے اعلان کے مطابق پنجاب کے وکلا تیرہ مارچ کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی نے جسٹس بھگوان داس کو درخواست کی ہے کہ وہ اپنا دورہ مختصر کرکے پاکستان آجائیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سنبھال سکیں۔

پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس سمیت تمام عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ۔ وکلاء تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے۔

سٹی کورٹ سے وکلا نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن اور کراچی بار ایسوس ایشن کے رہنماؤں کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا جس نے ایم اے جناح روڈ پر مارچ کیا اور دھرنا دیا۔

وکلاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں ، ہاتھوں میں چیف جسٹس کی تصاویر اور بینر اٹھائے ہوئے تھے، اور وہ جنرل مشرف اور ارباب غلام رحیم کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آج بھی افتخار محمد چوھدری چیف جسٹس ہیں جب ادارے کے ایک سربراہ کے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا ہے۔ جو ان کے بعد آتے ہیں اور جو ماتحت عدالتوں کے جج ہیں ان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

احتجاج کے دوران جنرل پرویز مشرف کی تصاویر کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
وکلاء کا یہ احتجاج ایک گھنٹے تک جاری رہا جس دوران کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک معطل رہی ۔

احتجاجی اجتماع کو وکلا تنظیموں کے رہنماؤں افتخار جاوید قاضی، اختر حسین، شیخ مجیب الرحمان ، شہادت اعوان، سلیم ضیا، سابق جسٹس ابو الانعام اور دیگر نے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی اور وزراء قانون سے اتنے باخبر نہیں ہیں جتنا وکیل ہوسکتے ہیں، یہ درست ہے کہ صدر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے، مگر کوئی باوردی صدر چیف جسٹس کو قید نہیں رکھ سکتا ہے اور نہ اس کے گھر کو سب جیل بنا سکتا ہے ۔

 عام آدمی اور وزراء قانون سے اتنے باخبر نہیں ہیں جتنا وکیل ہوسکتے ہیں، یہ درست ہے کہ صدر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے، مگر کوئی باوردی صدر چیف جسٹس کو قید نہیں رکھ سکتا ہے اور نہ اس کے گھر کو سب جیل بنا سکتا ہے۔

وہ اس وقت سخت ڈپریشن میں ہیں وہ عوام کو کیا انصاف فراہم کریں گے پاکستان کے عوام صرف اور صرف انصاف کے لئے عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں کسی فوجی، یا پولیس کی طرف نہیں دیکھتے۔

انہوں نے کہا کہ جب انصاف کا ادارہ تباہ ہوجائے تو عوام کے پاس انصاف کے لئے صرف یہ راستہ ہوتا ہے کہ وہ ڈنڈے اور گولیوں سے مسائل حل کریں ۔

حیدرآباد، سکھر سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروایوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے۔

صوبہ سندھ کے علاوہ پیر کو لاہور میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جسٹس افتخار چودھری کو غیر موثر قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔

کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ منگل کو وہ پھر ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ منگل کو ’یومِ سیاہ‘ کے موقع پر وہ بھی ہڑتال میں شریک ہوں۔

پشاور میں وکلاء کا مظاہرہ ہائی کورٹ سے شروع ہو کر گورنر ہاؤس پر ختم ہوا جس کے دوران وکلاء نے مشرف حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور جسٹس چودھری کے خلاف ریفرنس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔

کراچی میں حقوقِ انسانی کمیشن، ویمن ایکشن فورم، عورت فاؤنڈیشن اور دیگر این جی اوز نے بھی چیف جسٹس کے خلاف صدر مشرف کے اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد