حکومت مخالف تحریک کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ’معطل‘ کیے جانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کی رہائش گاء پر ہونے والے اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس کے بعد تمام سیاسی رہنماء ’معطل‘ چیف جسٹس چودھری افتخار سے ملنے ان کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں پر پولیس نے انہیں روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ سیاسی رہنماؤں نے زبردستی جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں پیچھے دھکیلا اور یہ سلسلہ تقریباً پنتالیس منٹ تک جاری رہا۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی طرف سے بلائی جانے والی اس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام ، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے فیصلے متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی سکیرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پڑھ کر سنائے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات کی مذمت کی گئی کہ جنرل مشرف کا اقدام عدلیہ پر براہِ راست حملہ ہے اور وہ آئینی اداروں کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کے روز کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ تیرہ مارچ کو کانفرنس میں شامل تمام قائدین اور اراکین اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک مارچ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام غیرآئینی ہے اور اس میں بعض ایسے جج شامل ہیں جو بقول ان کے کرپشن میں ملوث ہیں۔جب ان سے ججوں کے نام پوچھے گئے تو پریس کانفرنس میں موجود سیاسی رہنماؤں نے نام لینے سے اجتناب کیا البتہ عمران خان نے کہا کہ وہ نام بتاسکتے ہیں مگر ان کی آواز دیگر رہنماؤں کی آوازوں میں دب گئی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی تقرری غیرآئینی ہے اور افتخار چودھری اب بھی پاکستان کے آئینی چیف جسٹس ہیں۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ چودھری افتخار کی نظر بندی ختم کی جائے اور ان پر لگائی جانے والی تمام پابندیاں فی الفور ہٹائی جائیں۔ کانفرنس میں عدلیہ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کے غیر آئنی اقدامات کو ’ نظریہ ضرورت‘، کے تحت آئینی تحفظ فراہم نہ کرے۔ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینٹ کا اجلاس بلایا جائےگاجس کے لیے تاریخ کے تعین کا فیصلہ بعد میں کیا جائےگا۔ پریس کانفرنس میں لاہور میں وکلاء کے جلوس پر لاٹھی چارج اور پاکستان کے بعض نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات کومبینہ طور پر معطل کرنے کی بھی مذمت کی گئی۔
کانفرنس میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے تاکہ وکلاء تنظیموں سے مل کر احتجاج کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔ کمیٹی سعد رفیق، حاجی عدیل، غفور حیدری، لیاقت بلوچ، نیئر بخاری اور حامدخان پر مشتمل ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’معطل‘ چیف جسٹس کو کیمپ آفس بلانے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ عدلیہ کی نہیں بلکہ طاقت کی بالادستی ہے۔، سیاسی رہنماؤں نے گومشرف گو، چیف جسٹس کو رہا کرو، قوم کا چیف جسٹس افتخار چودھری اور جعلی سپریم جوڈیشل کونسل مردہ باد کے نعرے لگائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاسی رہنماؤں کو چیف جسٹس کی رہائش گاہ تک جانے سے روکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت جھوٹ بول رہی ہے کہ وہ نظر بند نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں جماعت کی کل جماعتی کانفرنس12 March, 2007 | پاکستان ’جھکنے سے انکار پر فارغ‘11 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’جوڈیشل کونسل کی تشکیل غلط ہے‘11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان وکلا کا احتجاج اور بائیکاٹ12 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||