وکلا کا احتجاج اور بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف ملک بھر کے وکلا آج پاکستان بھر کی چھوٹی بڑی عدالتوں کے بائیکاٹ پر ہیں۔ اس احتجاجی بائیکاٹ کے لیے وکلا کی تمام تنظیموں نے گزشتہ روز ہی اعلان کر دیا تھا۔ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پیر کو مکمل ہڑتال ہو گی۔ ان کے علاوہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرام چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے ملک میں ہڑتال کی جائے گی اور سپریم کورٹ میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا ’جنرل پرویز مشرف عدلیہ کو بلڈوز کرنا چاہتے ہیں۔ تا کہ اس میں جو رہی سہی کسر رہ گئی ہے وہ بھی نکل جائے۔
معطل چیف جسٹس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اب تک اپنی سرکاری رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’سرکاری طور پر تو یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ نظر بند نہیں ہیں لیکن اصل صورتحال یہ نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر لگا پاکستان کا پرچم بھی اتار لیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کا جھنڈا بھی اتر چکا ہے۔ اسی طرح نہ تو انہیں کہیں جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی کو ان سے ملنے کی اجازت ہے۔ اسے نظر بندی نہیں کہا جائے گا تو اور کیا کہا جائے گا۔ ہڑتال کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ، ’ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے پروگرام اپنی جگہ ہیں لیکن ہم سپریم کورٹ میں بھی احتجاج کریں گے اور ہماری کمیونٹی مکمل طور ہر متحد ہے‘۔ | اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||