’جوڈیشل کونسل کی تشکیل غلط ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کونسل کے ممبر حامد خان نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل غیر آئینی ہے۔ حامد خان نے کہا کہ آئین کے تحت اگر شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ یعنی چیف جسٹسں کے خلاف ہو تو سینئر ترین جج سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ بنے گا۔ حامد خان کا کہنا ہے کہ رانا بھگوان داس سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں اور انہی کو سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا انڈیا سے واپس آنے میں چند گھنٹے لگتے ہیں لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ رانا بھگوان داس سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی کریں۔ سپریم جوڈیشل کونسل جس کی سربراہی جسٹس جاوید اقبال کر رہے ہیں، تیرہ مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف لگائے گئے الزامات کے سماعت کرے گی۔ حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ہٹانے کے فورا بعد رجسٹرار سپریم ڈاکٹر فقیرحسین کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ سپریم کورٹ کے اہلکار محمد علی کو قائم مقام رجسٹرار سپریم کورٹ مقرر کیا گیا ہے۔ جسٹس رانا بھگوان داس کی غیر موجودگی میں سپریم جوڈیشل کونسل ان اراکان پر مشتمل ہو گی: جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر، (جج سپریم کورٹ) جسٹس رضا خان (جج سپریم کورٹ)، جسٹس چوہدری افتخار حسین( چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)، اور جسٹس صبیح الدین احمد۔ ادھر پاکستان بھر کے وکلاء نے چیف جسٹس کی ’معطلی‘ کے خلاف بارہ مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ حامد خان نے کہا کہ وکلاء کا موقف ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر بڑا حملہ کیا گیا ہے اور پاکستان کے حکمران کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جن پر ان کو ذرا سا بھی شک ہو کہ وہ کوئی آزادانہ فیصلہ نہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری کا سب سے بڑا قصور شاید سٹیل ملز نجکاری کے خلاف فیصلہ اور خفیہ ایجنسیوں کے طرف لوگوں کو غائب کرنے سے متعلق مقدموں کی سماعت ہے۔ | اسی بارے میں یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک09 March, 2007 | پاکستان معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان ’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘11 March, 2007 | پاکستان جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟09 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||