جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے پاکستان کے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار چودھری سے سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ملاقات کی۔ بعد میں قاضی حسین احمد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افتخار چودھری نے انہیں بتایا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت کھلی عدالت میں ہو۔ قاضی حسین احمد نے مزید بتایا کہ افتخار چودھری نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اگر سماعت کھلی عدالت میں نہیں کرائی جاتی تووہ بند کمرے میں بھی اپنا بھر پور دفاع کریں گے۔ قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ’معطل‘ چیف جسٹس نے ان کو یہ بھی بتایا ہے کہ ان کو نظر بند کیا گیا تھا اور سماعت کے لیے وہ سپریم کورٹ پیدل آنا چاہتے تھے مگر پولیس انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھاکر سپریم کورٹ لے آئی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز حسن نے بھی سپریم کورٹ کے باہر افتخار چودھری سے ملاقات کی۔ ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ ملاقات میں چیف جسٹس نے ان کو بتایا کہ انہوں نے انہیں (اعتزاز حسن)، حامد خان، منیر ملک اور طارق محمود کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ اعتزاز حسن کا کہنا تھا کہ افتخار چودھری نے ان کو یہ بھی بتایا کہ ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ استعفی دیں لیکن اعتزاز حسن کے مطابق معطل چیف جسٹس نے استعفی دینے سے انکار کردیا ہے۔ | اسی بارے میں ’یہ شک و شبہے کا وقت ہے‘12 March, 2007 | پاکستان جسٹس کے حق میں ملک گیر احتجاج12 March, 2007 | پاکستان ’تینوں بینچ برخاست ہو گئے‘ 12 March, 2007 | پاکستان منصفوں پر اعتراض، سماعت ملتوی13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||