’تینوں بینچ برخاست ہو گئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ عبادالرحمن لودھی ثوموار کو وکیلوں کی ہڑتال کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر موجود تھے۔ انہوں نے ہڑتال کی تفصیل بی بی سی کو یوں بتائی۔ ’سپریم کورٹ کے تینوں بینچ عدالت میں موجود تھے لیکن سوائے ایک حکومتی سینٹر کے ان کے سامنے کوئی پیش نہیں ہوا اور تینوں بینچ برخاست ہو گئے۔ وکلاء سپریم کورٹ کے کورٹ روم کے سامنے کھڑے تھے اور ان میں سے کوئی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا۔
مسلم لیگ (ق) کے سینٹر وسیم سجاد جب دو سرکاری وکلاء کے ہمراہ کورٹ روم میں گئے تو وکلاء نے ’شیم شیم‘ کے نعرے بلند کیے۔ سپریم کورٹ کی عمارت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ تمام کوششوں کے باوجود کوئی وکیل جسٹس افتخار محمد چوہدری سے وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا سکا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک رجسٹر پر وکلاء کے دستخط کروائیں گے ا ور یہ رجسٹر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایسوسی ایشن اس مقدمے میں ایک فریق بننے کی درخواست کرے گی‘۔ |
اسی بارے میں ’ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے‘11 March, 2007 | پاکستان ’کھلی عدالت میں مقدمہ چلائیں‘11 March, 2007 | پاکستان معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||