بھٹو نواز مفاہمت: فوجی اقدام مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کی رات دو سابق جلاوطن وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے مذاکرات کے طویل دور کے بعد معاہدۂ جمہوریت یا چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کر دیئے۔ آٹھ صفحوں پر مشتمل اس دستاویز میں مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی آئینی ترامیم، جمہوریت میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں دونوں جماعتوں کے مشترکہ نکتہ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے 1973 کے آئینی کو اس شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس شکل میں اسے مشرف حکومت نے گیارہ اکتوبر 1999 کو معطل کیا تھا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہونے والے مشترکہ معاہدے کو ،’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ چارٹر کی اسی شق میں لیگل فریم ورک آرڈر اور آئین میں ساتویں ترمیم کے تحت مشترکہ طریقہ انتخاب اقلیتوں اور خواتین کی نشتوں میں اضافے، ووٹنگ کی عمر میں کمی اور پارلیمینٹ کی نشستوں میں اضافے جیسی ترامیم کو ختم کرنے لکی سفارش کی گئی ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں صدر جنرل مشرف کی طرف سے متعارف کرائی گئی اس آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر پابندی عائد کی گئی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے خاتمے کی سفارش کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے پاس ہونی چاہیے۔
معاہدہِ جمہوریت میں ملک کے جوہری اثاثوں کا ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی کے تحت موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں جوہری رازوں کی چوری کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ معاہدہِ جمہوریت میں ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو 1996 کے بعد سے فوج کی طرف سے جمہوری حکومتوں کو ہٹانے اور کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس سے متعلق ذمہ داری کا تعین کرے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق 32 کے تحت آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ معاہدہِ جمہوریت کے تحت ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسائل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔ معاہدہِ جمہوریت کی ایک اور شق کے تحت ملٹری لینڈ اور کنٹونمینٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو 12 اکتوبر 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمین کے کیسوں کا جائزہ لے۔ معاہدے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیئے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں سفارش کی گئی ہے کہ فوج اور عدلیہ کے تمام افسروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرائیں۔ معاہدے میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیئے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کام کرنے والے نیب کی جگہ ایک آزادانہ احتساب کمیشن بنایا جائے جس کی سربراہ کو وزیر اعظم قائدِ حزب اختلاف کے مشورے سے مقرر کرے۔ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم بینظر بھٹو نے کہا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد اب معاہدہِ جمہوریت کو دیگر سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ ملک واپسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ حتمی تاریخ کا اعلان جلد ہی کریں گی۔
حکومت سے رابطوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کے ساتھ کسی بھی سطع پر مذاکرات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی قیادت کے خلاف نئے مقدمات کا اندراج اس بات کا ثبوت ہے کہ مفاہمت کے لیئے ان کے حکومت سے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں تازہ دلچسپی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بینظر بھٹو نے کہا کہ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں نے 2001 میں نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد جنرل مشرف کو اپنا حلیف بنایا تھا لیکن اب انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ صرف جمہوری حکومت ہی ملک میں حالات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ اور مغربی ملک پہلے ہی جمہوریت نواز پالیسیوں پر کاربند ہیں۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں دونوں سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے ذاتی مفادات کے بجائے عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر دستخط کیے ہیں تاکہ ملک میں جمہوریت کے قافلے کو صحیح سمت میں گامزن کیا جا سکے۔ ایم ایم اے کے ساتھ تعاون کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر تعاون حاصل کرنے کے لیئے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے سے صدر مشرف کو یہ واضع پیغام ملے جائے گا کہ ملک میں فوجی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس سے پہلے ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر ہونے والے مذاکرات میں بینظر بھٹو کی مدد پارٹی کے مرکزی رہنماؤں مخدوم امین فہیم، رضا ربانی، سید خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور راجہ پرویز اشرف نے جبکہ مسلم لیگ نواز کی طرف سے نواز شریف، شہباز شریف، اقبال ظفر جھگڑا، چودھری نثار علی خان، احسن اقبال اور غوث علی شاہ مذاکرات میں شریک ہوئے۔ | اسی بارے میں ’نواز شریف، بینظیر واپس جائیں گے‘15 April, 2006 | پاکستان بے نظیر، نواز شریف ملاقات پیرکو22 April, 2006 | پاکستان بے نظیر نواز ملاقات کی وڈیو کوریج 24 April, 2006 | پاکستان نواز، بےنظیر ملاقات آج ہوگی24 April, 2006 | پاکستان ’بینظیر، نواز آجائیں لیکن جیل۔۔۔‘07 May, 2006 | پاکستان ’بےنظیر، نواز میٹنگ نیا ڈرامہ ہے‘11 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||