BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحران قابو سے باہر ہو سکتا ہے: بینظیر
بے نظیر بھٹو
کہا جا رہا ہے کہ بے نظیر بھٹو اس سال کے آخر تک پاکستان واپس جانا چاہتی ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی پر امن سیاسی عمل کے ذریعے نہ ہوئی تو موجودہ عدالتی بحران قابو سے باہر ہو جائے گا۔

نیو یارک میں رائٹرز ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن کا کہنا تھا ’لوگوں میں بہت اضطراب پایا جاتا ہے اور عدالتی بحران نے عوام کی دکھتی رگ کو چھیڑا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ کتنے مایوس ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ان تمام قوتوں کو جو پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ انتہا پسند عناصر کو پاکستان کے گلی کوچوں میں پائی جانے والی بے چینی کا فائدہ اٹھانے سے باز رکھا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں جبکہ جنرل مشرف عوامی حمایت نہ ہونے کے باعث دہشت گردی کے خلاف کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

جسٹس افتخار
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے معطل ہونے پر ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

ان کا کہنا تھا ’وہ (جنرل مشرف) اس لیے ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ وہ عوام کی بجائے فوجی قوت پر انحصار کر رہے ہیں۔ وہ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جب فوج میں طالبان کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہو‘۔

بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا ’نائن الیون کے بعد طالبان کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، انہیں شکست ہو گئی تھی، وہ بد دل تھے اور راہ فرار اختیار کیے ہوئے تھے۔ لیکن (پاکستان میں) جمہوریت بحال نہ کی گئی اور طالبان نواز قوتوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل گیا اور وہ اب بہت نڈر ہو گئے ہیں‘۔

سابق وزیر اعظم نے مزید کہا ’طالبان کی اپنی فوج ہے جسے باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے، وہ عدالتیں لگاتے ہیں اور جاسوسی کا الزام لگا کر لوگوں کے سر قلم کرتے ہیں۔ نا جائز تعلقات کے شبہ میں لوگوں کا سنگسار کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے قبائلیوں علاقوں میں در حقیقت ایک ریاست قائم کر لی ہے‘۔

طالبان
’پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان نے اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے‘

بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر رواں سال میں طالبان پر قابو نہ پایا گیا تو وہ پاکستان پر غلبہ پانے کی کوشش کریں گے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف بھی انتہا پسندوں کی موجودگی کو اپنے فوجی اقتدار کی طوالت کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
’ساتھ دیا تو حملے‘
امریکہ کا ساتھ دینے پر مشرف کو طالبان دھمکی
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
بے نظیر اور نواز شریفمفاہمت ہو گئی
مشرف کی فوجی حکومت کے تمام اقدامات مسترد
اسی بارے میں
چیف جسٹس آف پاکستان معطل
09 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد