BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 March, 2007, 10:30 GMT 15:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں داخل

کراچی میں وکلاء برادری کا احتجاج
وکلاء وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے چیف جسٹس کے بارے میں بیان بازی پر سخت ناراض تھے
چیف جسٹس محمد افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف پاکستان میں بدھ کے روز بھی مظاہرے جاری رہے۔ وکلاء نے کوئٹہ میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور کراچی میں سندھ اسمبلی کے سامنے مظاہرے کیے اور سندھ اسمبلی میں زبردستی داخل ہوگئے۔

کراچی میں وکلاء برادری نے سندھ اسمبلی کے اندر زبردستی داخل ہوکر وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے خلاف احتجاج کیا اور انہیں متنبہ کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف بیانات دینے سے گریز کریں۔

سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور’ پرویز مشرف مردہ باد‘ اور ’عدلیہ کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے۔


وکلاء نے احتجاجی جلوس بھی نکالا اور وہ سندھ اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے اندر جانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا مگر وکلاء کی ایک بڑی تعداد اسمبلی کے داخلی دروازے کی کنڈی توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔

وکلاء سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بارے میں بیان بازی پر سخت ناراض تھے اور وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

ایوان کے داخلی راستے پر وکلاء سے ہائی کورٹ کے سابق جسٹس رشید اے رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ ہم یہ احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم گزشتہ ایک ہفتے سے الٹے سیدھے اور ہتک آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ وکلاء کا موقف ہے کہ جو ہاتھ بھی عدلیہ کی جانب طرف اٹھے گا، اسے کاٹ دیا جائے گا‘۔

سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء نے ہاتھوں کی انسانی زنجیر بنائی

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ نہ سمجھیں کہ عدلیہ ایسا ادارہ ہے جس کا محافظ کوئی نہیں ہے۔ ہر وکیل اس ادارے کا محافظ ہے اور اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’ارباب غلام رحیم کے بیانات توہینِ عدالت کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ہم اپنی لڑائی سڑکوں پر لڑیں گے اور عدالتوں میں نہیں جائیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا: ’چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور جس طریقے سے ان کی توہین کی گئی ہے، ایسا سلوک تو چوری کے کیس میں ملوث ایک عام ملزم سے بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کو بھی دفاع کا موقع دیا جاتا ہے وہ تو پھر چیف جسٹس ہیں‘۔

کراچی میں بدھ کو ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ سمیت تمام عدالتی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔کراچی بار کونسل کی جنرل باڈی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمعرات سے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔

دریں اثناء سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار نے مسلم لیگ لائرز فورم سے تعلق رکھنے والے دو وکلاء محفوظ یار اور شفقت ایڈووکیٹ کی رکنیت معطل کردی ہے۔ یہ کارروائی کراچی میں حکمراں مسلم لیگ لائرز فورم کی جانب سے صدارتی حکم کے حق میں مظاہرہ کرنے کے بعد کی گئی ہے۔

ادھر سٹی کورٹ میں بدھ کو ایک وکیل نے حاضر ہونے کی کوشش کی تو وکلاء کی تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد اس وکیل کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

بلوچستان میں عدالتوں کا بائیکاٹ
بلوچستان میں بدھ کو بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرے کی کوشش کی لیکن اجازت نہ ملنے پر وکلاء پریس کلب پہنچ گئے۔

صدارتی ریفرنس سے عدالتوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ وکلاء برادری اس وقت متحد ہیں اور حکومت کے خلاف بھر پور تحریک جاری رہے گی
نائب چیئرمین علی احمد کرد پاکستان بار کونسل

ضلع کچہری کوئٹہ سے وکیلوں نے ریلی نکالی اور گورنر ہاوس کے سامنے مظاہرے کے لیے روانہ ہوئے لیکن پولیس نے انہیں گورنر ہاوس کی جانب نہیں جانے دیا تو وکلا کوئٹہ پریس کلب پہنچ گئے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین علی احمد کرد نے اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبے بھر میں بدھ کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر احتجاج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل یعنی جمعرات سے ایک گھنٹے کا بائیکاٹ اور جزوی ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔

علی احمد کرد نے کہا کہ صدارتی ریفرنس سے عدالتوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ وکلاء برادری اس وقت متحد ہیں اور حکومت کے خلاف بھر پور تحریک جاری رہے گی۔صوبے کے دیگر اضلاع جیسے ڈیرہ مراد جمالی، تربت، خضدار، لورالائی اور دیگر علاقوں میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور احتجاج کیا ہے۔

مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
جسٹس جاوید کون؟
فوجیوں کو زمین آلاٹ کرنے کے مخالف جج
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء ہڑتال، مظاہرے
جسٹس افتخار کی معطلی پر پیر کو ہڑتال ہوئی
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
جسٹس افتخارچیف جسٹس معطل
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید کا تقرر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد