وکلاء: مسلسل احتجاج کا تیسرا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ انتظامیہ کی بدسلوکی اور وکلاء پر پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف بدھ کو ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں وکلاء پچھلے دو دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور بدھ کے روز احتجاج کا مسلسل تیسرا دن ہو گا جب وہ عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین علی احمد کرد نے وکلاء کی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو گورا نہیں کریں گے۔ پاکستان بار کونسل کے ممبر حامد خان نے کہا کہ تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکلاء چیف جسٹس کے ہونے والی زیادتی اور عدلیہ کی آزادی پر حملےکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوں اور جلسے اور جلوس منعقد کریں گے۔ پاکستان بار کونسل کی میٹنگ میں وکلاء نے جنرل مشرف کے آمرانہ انداز حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں سب سے اعلی عدالت کے چیف جسٹس خود انصاف کا طلب گار بنا دیا جائے اس کے عوام کے ساتھ ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے۔ وکلاء کا موقف تھا کہ جنرل مشرف ہر اس عہدایدر کو برطرف کر دیتے ہیں جس سے انہیں کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج13 March, 2007 | پاکستان معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||