BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 March, 2007, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالتی بحران پر نظر ہے: امریکہ

ماضی کے برعکس رچرڈباؤچر نے جنرل مشرف کی کھل کر تعریف نہیں کی
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے پاکستان کے عدالتی بحران کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کس طرح یہ معاملہ حل ہوتا ہے۔

جمعرات کو پاکستانی حکام سے ملاقات کے بعد امریکی سفارتخانے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدالتی شخصیت پر الزامات کا معاملہ ہے جوکہ احتیاط سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔

’ہم ایک اہم عدالتی شخصیت پر الزامات کی حساسیت کو سمجھتے ہیں، یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے معاملات کو احتیاط کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پاکستان کا اپنا نظام ہے اور اپنے طریقے سے نمٹیں گے۔ اس بارے میں کئی سوالات کا سامنا کیا مگر ہم اس معاملے کو بڑا قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کس طرح حل ہوتا ہے۔‘

رچرڈ باؤچر نے بتایا کہ اس دورے پر ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے گزشتہ رات امریکی سفیر ریان سی کروکر کو دیے گئے عشائیے کے بعد ملاقات ہوئی تھی جبکہ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان سے جمعرات کو بات چیت ہوئی۔

 ہم ایک اہم عدالتی شخصیت پر الزامات کی حساسیت کو سمجھتے ہیں، یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے معاملات کو احتیاط کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پاکستان کا اپنا نظام ہے اور اپنے طریقے سے نمٹیں گے۔ اس بارے میں کئی سوالات کا سامنا کیا مگر ہم اس معاملے کو بڑا قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کس طرح حل ہوتا ہے۔
نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر
انہوں نے وزیرستان میں امن معاہدے کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’یہ سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ تاحال اس معاہدے سے شدت اور انتہا پسندی روکنے یا سرحد پار کرنے والوں کو روکنے میں مدد نہیں ملی۔‘

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ’ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر صورتحال بدلے اور اگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی تو دیگر طریقے اپنائے جائیں گے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ قبائلی تاریخ اور روایات مختلف ہیں اور اس بارے میں پاکستان کو زیادہ علم ہے اور ان کی حکمت عملی کی امریکہ حمایت کر رہا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقی کے لیے پچہتر کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ یہ پانچ برسوں میں پاکستان کو فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقی کی حکمت عملی کے تعاون کے لیے ہے۔

رچرڈ باؤچر نے کہا کہ انہوں نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ گیارہ کروڑ ڈالر وزارت خارجہ کو دیں تاکہ وہ رواں سال کے لیے وہ پندرہ کروڑ ڈالر پاکستان کو قبائلی علاقوں میں ترقی کے لیے دے سکے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اس امدادی رقم کا کچھ حصہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے یا بارودی سرنگ بچھانے کے لیے استعمال کرسکے گا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت نے اس لیے رقم نہیں مانگی بلکہ یہ رقم صرف تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی سمیت فرنٹیئر کور کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے خرچ کرے گی۔

فرنٹیئر کور کو مزید سہولیات دینے کے لیے رواں سال اس رقم کے علاوہ امریکہ کی وزارت دفاع بھی ساڑھے سات کروڑ ڈالر دے رہی ہے۔

امریکہ کوصدر مشرف کی ضرورت؟
 امریکہ کو مستقبل میں صدر جنرل پرویز مشرف کی ضرورت کے بارے میں سوال پر پہلے وہ ٹال گئے لیکن بعد میں جب متعلقہ صحافی نے اصرار کیا تو باؤچر نے کہا وہ سمجھے تھے کہ صدر بش کو دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کی کتنی ضرورت ہے۔

امریکہ کو مستقبل میں صدر جنرل پرویز مشرف کی ضرورت کے بارے میں سوال پر پہلے وہ ٹال گئے لیکن بعد میں جب متعلقہ صحافی نے اصرار کیا تو باؤچر نے کہا وہ سمجھے تھے کہ صدر بش کو دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کی کتنی ضرورت ہے۔

بعد میں انہوں نے کہا کہ ’صدر مشرف امریکہ کے اہم اتحادی ہیں، پاکستان امریکہ کا مضبوط اتحادی ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف اس کے سربراہ ہیں، ہمیں ان کے ساتھ انتہاپسندی کو روکنے اور جمہوری اور جدید معاشرے کے قیام کے لیے کام کرتے ہوئے فخر ہے۔‘

امریکی نائب وزیر صدر مشرف کی بلا جھجھک خود سے کھل کر بھرپور تعریف کرنے سے ماضی کے برعکس اس بار بظاہر کچھ ہچکچکاتے نظر آئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وہ بنیادی کامیابی چاہتے ہیں کہ یہاں ایک جدید اور جمہوری قوم ہو، شدت اور انتہا پسندی ختم ہو اور جمہوریت مستحکم ہو۔ انہوں نے رواں سال عام انتخابات وقت پر شفاف اور غیر جانبدار بنیاد پر منعقد کرنے کے اپنے موقف کو دہرایا۔

ایران کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام یا ملک سے انہیں کوئی شکوہ نہیں ہے بلکہ ایرانی حکومت کے رویہ پر انہیں تشویش ہے جو ان کے بقول عراق میں شدت پسندوں کی حمایت اور جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کی صورتحال کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس بارے میں اقوام متحدہ اور اپنے اتحادیوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
زباں بندی؟
وکلاء احتجاج کو’سنسر‘ کرنے کی مذمت
عدلیہ کی آزادی
’بینظیر بھٹو جدوجہد میں کردار ادا کریں‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
جسٹس رانا بھگوان داس’لکھنؤ PCO‘
’جسٹس بھگوان داس PCO سے فون کرتے ہیں‘
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد