چیف جسٹس افتخار۔ عام آدمی کا جج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے ہر چیف جسٹس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، مگر افتخار محمد چودھری شاید پہلے چیف جسٹس تھے جنہوں نے اس کا بھر پور استعمال کیا اور یوں انہوں نے کئی ہزار لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں الگ سے انسانی حقوق سیل قائم کیا جس میں ہزاروں درخواستوں پر داد رسی کی گئی ۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ از خود نوٹس ان ممالک میں لیے جاتے ہیں جہاں انتظامیہ اور قانون ساز ادارے ناکام ہوجاتے ہیں، بدانتظامی ہو، اچھی حکمرانی نہ ہو اور عوام کو انصاف نہیں ملتا ہو۔ پاکستانی معاشرے میں بااثر سمجھے جانے والے پولیس افسروں، سردار، وڈیرے یا بیورو کریسی سب ہی کو افتخار محمد چودھری کی عدالت میں جوابدہ ہونا پڑا تھا۔
حیدرآباد پریس کلب کے سامنے انصاف کی آس لگائے بیٹھے ہوئے منو بھیل کے خاندان کی بازیابی کی کوششوں میں انہوں نے آئی جی سندھ کو کٹہرے میں لا کھڑا کردیا تھا۔ کراچی میں گزشتہ سال ماہ اگست میں جب پولیس نے ایک مزدور رسول بخش کو ڈاکو قرار دیکر ہلاک کردیا تھا اور اس کے ورثاء کو چار دن کے بعد لاش دی گئی۔ اس واقعے کا اسلام آباد کے ایوانوں نے تو کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ مگر جسٹس افتخار محمد چودھری کے نوٹس لینے پر اعلیٰ پولیس حکام سمیت کوئی سولہ اہلکاروں کو جیل جانا پڑا تھا۔ انہوں نے سندھ میں روایتی سرداری نظام پر بھی نقب لگائی۔ جیکب آباد کے علاقے ٹھل میں جب ایک جرگے میں خون کے بدلے پانچ بچیوں کا رشتہ دیا گیا تو اس فیصلے میں شریک تمام افراد کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہونا پڑا تھا۔ اس طرح حیدرآباد میں قاسم آباد پولیس نے پانی کی مشین چوری کرنے کے الزام میں چھ سالہ سعید، تیرہ سالہ اسد خاصخیلی اور مزمل کو گرفتار کیا، ہتھکڑیاں پہنے ہوئے بچوں کی فلم جب ٹی وی چینل پر دکھائی گئی تو رات کو ہی چیف جسٹس نے اس کا نوٹس لیا اور حیدرآباد کی ماتحت عدالت کے جج تھانے پہنچے جہاں انہوں نے چھ سالہ سعید کو اسی وقت رہا کروایا۔ دوسرے روز دیگر دو بچوں کو بھی آزاد کیا گیا۔
اختر بلوچ کا کہنا ہے: ’افتخار محمد چودھری نے انسانی حقوق کے لیے ایک مثالی کردار ادا کیا، جوینائل جسٹس قوانین کے اطلاق کے باوجود بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے، جرگے میں بچوں کے رشتے دینا کا نوٹس لیا، اس سے پہلے ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔‘ ان کے مطابق یہ ’جوڈیشل ایکٹوِزم‘ نہیں بلکہ ’جوڈیشل ہیومن ایکٹوِزم‘ ہے، عدلیہ کے اداراک سے یہ آگاہی ہوئی کہ ان مسائل کو اٹھایا جاسکتا ہے، ان پر بات کی جا سکتی ہے۔ وہ افتخار محمد چودھری ہی تھے جن کی بدولت مرضی کی شادی کرنے کے بعد پانچ سال سے جیل میں پڑی مسمات سوڈہی اور حکیم کو رہائی ملی تھی۔ میاں بیوی کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ دائر تھا۔ چیف جسٹس نے ایک این جی او کی درخواست پر اس کا نوٹس لیتے ہوئے روزانہ سماعت کا حکم جاری کیا تھا۔ کنری کی نادرہ پروین کو ہراساں کرنے کا بھی سپریم کورٹ نے نوٹس لیا جس میں رکن صوبائی اسمبلی کے والد اور تحصیل ناظم کو فریق بنایا گیا تھا۔ نادرہ ابھی تک پنجاب میں رہائش پذیر ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کے لالہ حسن پٹھان کا کہنا ہے کہ افتخار محمد چودھری کے اقدام سے لوگوں میں ہمت کا جذبہ پیدا ہوا تھا اور ٹھل میں پانچ لڑکیوں کے جرگے کا ازخود نوٹس لینے کا یہ اثر ہوا کہ جب سکھر میں ایک جرگہ ہوا تو پولیس نے خود اس کا مقدمہ دائر کردیا، اس طرح ٹنڈو آدم میں جب ایک سابق ایم این اے نے پانچ سالہ بچی کا جرگے کے فیصلے میں رشتہ دے دیا اور اس کا عدالت نے نوٹس بھی نہیں لیا مگر پولیس نے اسی خوف میں ہی اس کا مقدمہ دائر کرلیا حالانکہ دونوں فریق میں صلح بھی ہوگئی تھی۔ حسن پٹھان کا کہنا ہے کہ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ایسے مقدمات میں لوگوں کو ریلیف ملنے لگا تو نچلی عدالتوں نے بھی لوگوں کو ریلیف دینے شروع کیے۔
پڑی۔ اس طرح کوٹ غلام محمد میں بجلی کی تار سے کرنٹ لگنے پر تین بچوں کی ہلاکت ہو یا ٹنڈو جان محمد میں ایک خاتون کی ہسپتال بند ہونے کی وجہ ایسے کئی مقدمات تھے جو سِول کورٹ جیسی عدالتوں کی سماعت کے قابل تھے مگر انصاف سے مایوس افراد کو افتخار محمد چودھری نے امید کی کرن دکھائی، کچھ لوگوں کی یہ شکایت رہی تھی کہ سپریم کورٹ بڑے معاملات کے بجائے چھوٹے معاملات نمٹا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ناصر اسلم کا کہنا ہے کہ عوام کے تو چھوٹے چھوٹے مسئلے ہیں، بڑے مسئلے بڑے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔ انہیں تو انصاف مل بھی جاتا ہے مگر عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناکوں پر پولیس کا پریشان کرنا، یوٹیلٹی کے مسائل، بچے کے داخلے، امتیازی سلوک، حق تلفی، یہ چھوٹے چھوٹے مسائل ہی عوام کے مسائل ہیں جو کوئی سننے والا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اگر پولیس اور حکومتی حکام سے انصاف مل جائے تو پھر چھوٹی موٹی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں تیس جون دو ہزار چھ تک اڑتیس ہزار ایک سو انتالیس مقدمات زیر سماعت تھے جن میں سے تئیس ہزار تین سو تریپن نمٹائے گئے۔ یہ تو وہ مقدمات تھے جو جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ان کے ساتھی ججوں نے نمٹائے مگر انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس ہزاروں ازخود نوٹس لیے اور عام آدمی کی ایک سادہ درخواست پر احکامات جاری کیے اور عام آدمی کو انصاف فراہم کیا۔ انہی اقدامات نے انہیں ایک عام آدمی کا جج بنا دیا۔ |
اسی بارے میں وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں داخل14 March, 2007 | پاکستان پشاور میں جمعہ کویومِ احتجاج 14 March, 2007 | پاکستان ہفتے کو لاہور میں وکلاء کنونشن14 March, 2007 | پاکستان ’آزاد عدلیہ، بینظیر کردار ادا کریں‘14 March, 2007 | پاکستان ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان اعتزاز کو ملنے دیں: جوڈیشل کونسل15 March, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس یا اے کلاس قیدی‘ 15 March, 2007 | پاکستان احتجاج، گرفتاریاں، سول جج مستعفی15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||