ہفتے کو لاہور میں وکلاء کنونشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر کے وکلا ہفتے کے روز لاہور میں ایک ملک گیر کنونشن میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنا لائحہ عمل طے کرینگے۔ یہ بات پاکستان بار کونسل کے رکن راجہ شفقت عباسی نے اسلام آباد میں وکلا کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ شفقت عباسی نے کہا کہ ملک بھر کے وکلا جمعرات کے روز سے عدالتوں کا بائیکاٹ ختم کر دینگے جبکہ اس کی جگہ تحصیل اور ضلع کی سطح پر تمام بار کونسل کے دفاتر میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے اور ہر روز ایک گھنٹہ احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام اسلام آباد بار کونسل نے کیا تھا اور اس کا مقصد اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ناروا سلوک پر احتجاج کرنا تھا۔ منگل کے روز غیر فعال چیف جسٹس جب سپریم کورٹ میں اپنے خلاف ریفرنس کی سماعت کے لئے آئے تھے تو اس موقع پر اسلام آباد کی انتظامیہ کے ارکان نے انہیں زبردستی سرکاری گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی اور اس دھکم پیل میں چیف جسٹس کا کوٹ پھٹ گیا تھا۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل اسلام آباد بار کے ارکان نے ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی جس میں صدر پرویز مشرف، وزیر قانون وصی ظفر اور وزیر اطلاعات کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ قراردادوں میں صدر جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ وصی ظفر کو غیر مہذب ترین اور محمد علی درانی کو سب سے بڑا دروغ گو قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعدوکلا نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک مارچ کیا، حکومت اور صدرمملکت جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور جسٹس افتخار کے حق میں نعرے بازی ہوئی اور تقریریں کی گئیں۔ وکلا کے احتجاج کے دوران عداتی کام ٹھپ رہا اور سائل اور پیشی کے لئے آئے ملزمان وکلا اور ججوں کے انتظار میں عدالتوں کے باہر سراپا انتظار بنے رہے ۔ | اسی بارے میں ’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں داخل14 March, 2007 | پاکستان ’آزاد عدلیہ، بینظیر کردار ادا کریں‘14 March, 2007 | پاکستان ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||