’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار چوہدری کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر خیریت سے ہیں اور چوبیس مارچ کو وطن واپس آئیں گے۔ کراچی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسز بھگوان داس نے کہا کہ ان کے شوہر اس وقت بھارت کے شہر لکھنؤ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ جب ان سے جسٹس بھگوان داس کا لکھنؤ میں رابطہ نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے پاس نمبر نہیں ہے اور بعد میں کہا کہ وہ دینا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس تین مارچ کو نجی دورے پر بھارت روانہ ہوئے تھے۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے شوہر سے بات ہوتی رہتی ہے، جو انہیں پبلک کال آفس سے فون کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو عملی طور پر معطل کیے جانے کے بعد صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے رانا بھگوان داس سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج ہیں۔ آئین کے اعتبار سے قائم مقام چیف جسٹس انہیں بننا چاہیے اور اسی اعتبار سے سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ بھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جسٹس رانا بھگوان داس کی عدم موجودگی میں ملک میں دستیاب سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں حکومت نے غیر معمولی جلد بازی کا مظاہرہ کیا، حالانکہ جسٹس بھگوان داس کا انتظار کیا جا سکتا تھا یا پھر انہیں بھی اسی طرح ’ہنگامی‘ بنیادوں پر خصوصی طیارے پر لایا جا سکتا تھا جیسے لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سربراہوں کو لایا گیا۔ جسٹس رانا بھگوان داس نے قانون کی تعلیم کے علاوہ اسلامک سٹڈیز میں ایم اے (ماسٹر آف آرٹس) بھی کر رکھا ہے۔ وہ رواں سال بارہ دسمبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں جسٹس بھگوان داس کہاں ہیں؟12 March, 2007 | انڈیا پولیس کا ناروا سلوک، سپریم کورٹ کا نوٹس14 March, 2007 | پاکستان ’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘13 March, 2007 | پاکستان جسٹس جاوید اقبال کون؟11 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان معطل09 March, 2007 | پاکستان ’بھگوان‘ انڈیا نہیں جا سکے30 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||