پولیس کا ناروا سلوک، سپریم کورٹ کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کا از خود کارروائی کے تحت نوٹس لیتے ہوئے چار سینئر پولیس اہلکاروں کو سپریم کورٹ نے انیس مارچ کو طلب کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تعلقات عامہ کے افسر نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ چودہ مارچ کو ایک اردو روزنامہ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ ڈی ایس پی جمیل ہاشمی کی مبینہ بدسلوکی پر از خود کارروائی کرتے ہوئے نوٹس لیا ہے۔ بیان کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور متعلقہ ڈیی ایس پی کو پیر کی صبح عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ بدھ کو ایڈہاک جج کے طور پر ملازمت میں توسیع ملنے پر جسٹس حامد علی مرزا کی حلف برداری کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے ساتھ پولیس کے سلوک کے بارے میں فل بینچ تحقیقات کرے گا۔ واضح رہے کہ اختیارات کے غلط استعمال کی بنیاد پر صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے غیر فعال قرار دیے گئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کرنے کے لیے گاڑی میں بٹھاتے وقت پولیس نے ان سے کھینچا تانی کی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے کوٹ کے کالر سے کھینچ کر انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا تھا۔ جسٹس جاوید اقبال نے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب میں کہا تھاکہ اگر وہ بطور قائم مقام چیف جسٹس حلف نہ اٹھاتے تو خلاء پیدا ہوتا جس سے آئینی بحران بڑھ جانے کا خدشہ تھا۔ سینیئر جسٹس رانا بھگوانداس کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کیا اگر بھگوان داس صاحب چار ماہ نہیں ہوتے تو اس عہدے کو خالی رکھا جاسکتا ہے؟ قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی غیر آئینی فیصلے نہیں کیے اور نہ ہی آئندہ کریں گے۔
معطل چیف جسٹس کے معاملے کے بارے میں ذرائع ابلاغ پر پابندی سے متعلق انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے کو ’سکینڈلائز‘ کرنے پر اعتراض ہے کیونکہ ان کے بقول اس سے شکوک شبہات بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر ایسے لوگ تبصرے کر رہے ہیں جنہیں قانون کا علم ہی نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ غیر فعال چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کے بارے میں تبصروں پر صرف میڈیا نہیں بلکہ حکومتی لوگوں پر بھی پابندی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ رات صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کو نیوز کانفرنس کے وسط میں مزید بولنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے وزراء بھی اس بارے میں بیان بازی سے گریز کریں گے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کا کام اضطراب پیدا کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ عدلیہ کے بطور مستحکم ادارے کی کوششوں کا ساتھ دے اور عدلیہ کے تقدس کو تحفظ دینا چاہیے۔ قبل ازیں جب حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی تو اس میں سپریم کورٹ کے جج اور سرکاری وکلاء شریک ہوئے لیکن حسب روایت وکلاء تنظیموں کے نمائندے عدالت کے احاطے میں ہوتے ہوئے بھی شریک نہیں ہوئے۔ ایک سینئر وکیل رائے احمد نواز کھرل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تنظیموں نے حلف برداری کا بائیکاٹ کیا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس حامد علی مرزا تیرہ ستمبر دو ہزار پانچ کو ریٹائر ہوگئے تھے اور اس وقت سے ان کی ملازمت میں وقت بوقت توسیع کی جاتی رہی ہے۔ اس بار صدر جنرل پرویز مشرف نے چودہ مارچ سے چھ ماہ کے لیے ان کی مدت ملازمت میں بطور ایڈہاک جج توسیع کی ہے۔ |
اسی بارے میں ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان وکلاء: مسلسل احتجاج کا تیسرا دن13 March, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں احتجاج، یوم سیاہ13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پہلا تحریری بیان13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||