کوئٹہ میں احتجاج، یوم سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان چوہدری افتخار محمد کی معطلی کے خلاف آج کوئٹہ میں کاروباری مراکز بند رہے جبکہ وکلاء نے یوم سیاہ منایا اور صوبے کے بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ سیاسی قائدین احتجاجی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ کوئٹہ میں ہڑتال پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی اپیل پر کی گئی اور اس موقع پر شہر کے تمام اہم کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاجر برادری اور وکلاء نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ وکلاء برادری نے چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کی معطلی کے خلاف آج یوم سیاہ منایا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء کا احتجاج جاری رہے گا اور بدھ کو وکلاء جلوس نکالیں گے۔ صوبے کے دیگر اضلاع بشمول تربت ڈیرہ اللہ یار لورالائی نوشکی اور سبی میں وکیلوں نے یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ کوئٹہ میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے زیر انتظام جسلہ عام جاری ہے جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین جیسے نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے عبدالولی کاکڑ، جماعت اسلامی مولوی عبدالحق کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مقامی قائدین موجود ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی جلسے کی صدارت کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||