پشاور میں جمعہ کویومِ احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی سیاسی جماعتوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کی ’معطلی‘ کے خلاف جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ بدھ کے روز متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام المرکز اسلامی پشاور میں منعقدہ صوبائی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا جس کی صدارت ایم ایم اے کے صوبائی صدر سنیٹر مولانا گل نصیب خان نے کی۔ کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، وکلاء ، تاجروں اور ٹرانپسورٹر تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے نمائندوں نے کانفنرس میں شرکت نہیں کی۔ ایم ایم اے کے صوبائی صدر نے کہا کہ وردی میں ملبوس آرمی چیف اور صدر کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں طلب کرنا اور اسے کئی گھنٹوں تک محبوس رکھ کر استعفی کےلئے مجبور کرنا غیر قانونی اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز نمک منڈی پشاور سے ایک ریلی نکالی جائے گی جس کی قیادت تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے کرینگے جبکہ بعد میں کابلی چوک میں جلسہ عام بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم ایم اے کے مرکزی صدر قاضی حسین احمد نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کےخلاف کارروائی کی تو یہ غیر آئینی اقدام ہوگا۔ ادھر دوسری طرف پشاور میں آج تیسرے روز بھی وکلاء کی جانب سے تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور پشاور ہائی کورٹ کے عمارت کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ اس موقع پر وکلاء نے اعلان کیا کہ کل یعنی جمعرات کو دو گھنٹوں تک عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ جاری رکھاجائے گا جبکہ ہائی کورٹ کے احاطے میں بھوک ہڑتال کیمپ بھی لگایا جائے گا۔ | اسی بارے میں ہفتے کو لاہور میں وکلاء کنونشن14 March, 2007 | پاکستان ’آزاد عدلیہ، بینظیر کردار ادا کریں‘14 March, 2007 | پاکستان وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں داخل14 March, 2007 | پاکستان ’حکومتی وکیل، ہرگز نہیں بنوں گا‘13 March, 2007 | پاکستان ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان وکلاء: مسلسل احتجاج کا تیسرا دن13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||