BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومتی وکیل، ہرگز نہیں بنوں گا‘

فخرالدین جی ابراہیم
فخرالدین نے کہا کہ وہ وکلاء برادری سےاتفاق کرتے ہیں جو حکومتی رویے کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے
فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ وہ معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس میں ہرگز حکومت کے وکیل نہیں بنیں گے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نےکچھ اخباروں میں پڑھا ہے کہ وہ صدراتی ریفرنس میں حکومت کے وکیل کے طورپر پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا یہ اطلاع نہ صرف غلط ہے بلکہ ان کے خیال میں اس ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی گئی ہے۔

فخرالدین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عدلیہ کی آزادی کو ختم کرنے اور ججوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششوں کو روکنے کی ضرروت ہے۔ فخرالدین نے کہا اور وہ وکلاء برادری کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں جو حکومتی رویے کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ایڈوکیٹ نعیم بخاری کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو لکھے جانے والے خط میں ان کے جس مقدمے کا ذکر ہے اور اس سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کسی مخصوص وجہ سے عدالت میں سنائے جانے والے زبانی فیصلہ کو بدل دیا ہے۔

ایڈوکیٹ نعیم بخاری کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو لکھے جانے والے خط میں ان کے جس مقدمے کا ذکر ہے اور اس سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کسی مخصوص وجہ سے عدالت میں سنائے جانے والے زبانی فیصلہ کو بدل دیا ہے
فخرالدین جی ابراہیم

فخر الدین جی ابرہیم نے کہا وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس فیصلے کو کسی خاص وجہ سے تبدیل کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جج زبانی سنائے جانے والے فیصلے کو تبدیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا جب اس مقدمے کو پہلی دفعہ سنا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس کے عہدے پر فائزنہیں ہوئے تھے اور ان کے ساتھ دو اور جج بھی بینچ پر موجود تھے۔

فخر الدین جی ابرہیم نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی نظر ثانی کی اپیل کر رکھی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ ان کو مکمل طور پر سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔

مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء ہڑتال، مظاہرے
جسٹس افتخار کی معطلی پر پیر کو ہڑتال ہوئی
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد