’حکومتی وکیل، ہرگز نہیں بنوں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ وہ معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس میں ہرگز حکومت کے وکیل نہیں بنیں گے۔ فخرالدین جی ابراہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نےکچھ اخباروں میں پڑھا ہے کہ وہ صدراتی ریفرنس میں حکومت کے وکیل کے طورپر پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا یہ اطلاع نہ صرف غلط ہے بلکہ ان کے خیال میں اس ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی گئی ہے۔ فخرالدین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عدلیہ کی آزادی کو ختم کرنے اور ججوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششوں کو روکنے کی ضرروت ہے۔ فخرالدین نے کہا اور وہ وکلاء برادری کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں جو حکومتی رویے کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ایڈوکیٹ نعیم بخاری کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو لکھے جانے والے خط میں ان کے جس مقدمے کا ذکر ہے اور اس سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کسی مخصوص وجہ سے عدالت میں سنائے جانے والے زبانی فیصلہ کو بدل دیا ہے۔ فخر الدین جی ابرہیم نے کہا وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس فیصلے کو کسی خاص وجہ سے تبدیل کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جج زبانی سنائے جانے والے فیصلے کو تبدیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب اس مقدمے کو پہلی دفعہ سنا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس کے عہدے پر فائزنہیں ہوئے تھے اور ان کے ساتھ دو اور جج بھی بینچ پر موجود تھے۔ فخر الدین جی ابرہیم نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی نظر ثانی کی اپیل کر رکھی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ ان کو مکمل طور پر سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔ |
اسی بارے میں منصفوں پر اعتراض، سماعت ملتوی13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان صدر و چیف جسٹس کیخلاف سماعتیں13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||