BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 01:58 GMT 06:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر و چیف جسٹس کیخلاف سماعتیں

وکلاء کا احتجاج
وکلاء نے منگل کو پاکستان بھر میں جنرل مشرف کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں احتجاج کیا
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔


سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو سول لبرٹی یونین آف پاکستان کی جانب سے نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ صدارتی آفس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہیں یہ اختیار نہیں ہے کہ چیف جسٹس کو معطل کریں ، یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی ہے۔

پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور ان کے خاندان کو حبس بے جا میں رکھا گیا ، جس سے عوام میں بے چینی اور بد دلی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر مشرف کے قدم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

اس پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا، ہے منگل کی صبح ڈویزن بینچ اس کی سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس خاندان حبس بے جا میں
 پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور ان کے خاندان کو حبس بے جا میں رکھا گیا ، جس سے عوام میں بے چینی اور بد دلی ہے

نہال ہاشمی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئینی اور جہموری طریقہ اختیار کیا ہے اور امید ہے کہ منگل کو جج صاحبان اپنی ذمے داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اس پر حکم امتناعی جاری کریں گے۔
’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد