گرفتاریاں اور حفاظتی انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا اور حکام نے جمعہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں اطلاعات کے مطابق سرکاری ہسپتالوں، پولیس اور فائر بریگیڈ کو تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں سپریم کورٹ کو جانے والے راستوں پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے صدراتی ریفرنس کی سماعت سے ایک روز پہلے جمعرات کو سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ ہوا جس میں جنرل مشرف کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرے میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی بیٹی کی سہیلوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہوئی، جو مقامی کالج سے آئی تھیں۔ مظاہرین نے جسٹس افتخار محمد کے حوصلے کی تعریف کی اور عدلیہ پر’ فوجی حملے’ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اس وقت جذباتی انداز میں نعرے بازی شروع کر دی جب کچھ فوجی گاڑیاں کسی اہم فوجی شخصیت کو لے کر وہاں سے گزریں۔ حال ہی میں پیلپز پارٹی میں واپس آنے والی بیگم عابدہ حسین، پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے خواجہ آصف، سینیٹر سعدیہ عباسی اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی چوہدری زمرد سمیت کئی سیاستدانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے جسٹس افتخار چودھری کی ’معطلی‘ کی حمایت کرنے والے وزراء خصوصاً وزیر قانون وصی ظفر اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کے پتلوں کو پیٹتے رہے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی، لیکن انہوں نے مظاہرین کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ پاکستان رینجرز کے چند اہلکار جدید اسلحہ سے لیس گاڑیوں پر موجود تھے۔
مظاہرین نے اس موقع پر تقریریں کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چودھری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کو عوامی مسائل سے متعلق مقدموں کی سماعت سے باز رکھنے کے لیے ہٹایا گیا ہے اور حکومت کسی ایسے جج کو اس عہدے پر فائز کرنا چاہتی ہے جو آنکھیں بند کر کے اس کے اقدامات کی تائید کرے۔ عملی طور پر معطل کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق پنجاب بھر میں وکلاء کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بہاولپور کے ایک سول جج احتجاجاً مستعفی ہوگئے ہیں۔ جمعرات کو لاہور میں وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ کیا۔ فیصل آباد میں بھی سینکڑوں وکلاء نے ایک احتجاجی جلسہ کیا۔ ادھر بہاولپور کے سول جج سعید خورشید احمد نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو بھیجے گئے اپنے استعفی میں کہا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں چیف جسٹس کی توہین سے عدلیہ کی باوقار عمارت زمین بوس ہوگئی ہے اور عوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے چیف جسٹس کے معاملہ پر جمعہ کو لاہور میں ایک احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہوا ہے اور جماعتوں کے مطابق پولیس نے جمعرات سہ پہر سے ہی ان کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف جمعرات کی سہ پہر گوجرانوالہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہاہے کہ لاہور میں تیرہ ہزار وکلاء میں سے صرف اڑھائی سو سڑکوں پر ہیں اور یہ کہ وہ قوم کو خود سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ سے آگاہ کریں گے۔ جمعہ کو ایوان عدل لاہور میں سینکڑوں وکلاء نے احتجاجی جلسہ کیا اور باہر لوئر مال کے کنارے فٹ پاتھ پر احتجاجی کیمپ لگانے کی کوشش کی جسے پولیس نے اکھاڑ دیا۔ وکلاء نےاپنی تقریروں میں چیف جسٹس افتخار چودھری سے مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی اور ان کی معطلی کو عدلیہ پر قاتلانہ حملہ قرار دیا۔
احتجاجی جلسہ کے بعد جب وکلاء نے منتشر ہوکر سڑک پر نکلنا چاہا تو پولیس نے انہیں ایک ساتھ باہر آنے سے روک دیا جس پر وکلاء اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی اورگالی گلوچ ہوئی۔ پولیس نے وکلاء پر ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا۔ ہائی کورٹ کی عمارت میں بار رومز پر سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور وکلاء نے بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور عدلیہ بچاؤ کمیٹی نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے۔ دوسری طرف بدھ کو وزیراعلی پنجاب نے ایک جلسہ سے خطاب کیا تھا جس میں چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی حمایت کی گئی تھی۔ جلسہ میں حکومت کے حامی کچھ وکیلوں کے علاوہ درجنوں سرکاری ملازموں، پراسیکیوشن افسروں اور پٹواریوں کو کالے کوٹ پہنا کر بٹھایا گیا تھا تاکہ حکومت کی وکلاء میں حمایت کا تاثر دیا جاسکے۔ منگل کو وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں احتجاجی جلسہ کیا تھا جس میں پنجاب اسمبلی کے حزب مخالف کے ارکان نے بھی شرکت کی تھی اور اسمبلی سے ہائی کورٹ تک پیدل مارچ کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومتی وزراء کے اپنے بار رومز میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے اور وفاقی وزیر قانون وصی ظفر کی رکنیت معطل کردی ہے جبکہ ساہیوال بار ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیر ارشد لودھی کی رکنیت معطل کردی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب سے لاہور میں ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے پولیس گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے بی بی سی سے کہا ہے کہ جمعرات کی سہ پہر تک ان کی جماعت، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے تقریبا تین سو کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں اور پولیس حزب مخالف کے ہر رکن اسمبلی کے گھر چھاپہ مار چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپے پنجاب بھر میں مارے جا رہے ہیں اور جو کارکن ہاتھ نہیں لگے ان کے بزرگوں اور عزیزوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک سو سیاسی کارکنوں کی فہرست دی گئی ہے جنہیں جلوس روکنے کے لیے گرفتار کیا جانا ہے۔ لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ملک اقبال سے جب بی بی سی نے گرفتاریوں کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے گرفتاریوں کی بالواسطہ طور پر تصدیق کرتے ہوئے کہا ’ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ جو اقدامات کیے جانے چاہئیں ہم وہ کریں گے۔ہمیں امن و امان اور عوام کا امن و سکون قائم رکھنا ہے‘۔ سنیچر کو لاہور ہائی کورٹ بار کے زیر اہتمام ایک سیمینار اور ایک کل ملکی وکلاء کنونشن منعقد ہورہا ہے جس کا عنوان ہے ’عدلیہ کی رہائی‘۔
سندھ کے تمام اضلاع میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ کے احاطے میں چھ وکیلوں نے علامتی بھوک ہڑتال کی جبکہ سکھر، جیکب آباد ، نوابشاہ اور لاڑکانہ میں وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت جمعرات کو نہیں ہوسکی۔ سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو سول لبرٹی یونین آف پاکستان کی جانب سے نہال ہاشمی ایڈووکیٹ نے یہ درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدر مملکت نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ درخواست دہندہ کے مطابق جج صاحبان کے نہ آنے کی وجہ سے معاملے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ |
اسی بارے میں پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج13 March, 2007 | پاکستان وکلاء: مسلسل احتجاج کا تیسرا دن13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان ’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||