’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں معطل چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل نے حکومت کو افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کو ان سے ملاقات کرنے کی مکمل آزادی دینے کا حکم دیا ہے۔ اعتزاز احسن کو بدھ کے روز کئی گھنٹوں کے انتظار کے باوجود جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ کونسل نے وکلاء صفائی کے پینل کو کہا کہ ون شکایت کی صورت میں جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری سے رابطے کے لیے کریں تاکہ ان کی ملاقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں جمعرات کو کونسل کی جانب سے جاری ایک حکم نامے میں یاد دلایا گیا کہ سینئر ایڈووکیٹ اعتزاز احسن کی معطل چیف جسٹس کے وکلاء صفائی کی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری کا اعلان کونسل نے تیرہ تاریخ کی سماعت میں کر دیا تھا۔ اس بابت اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اعتزاز احسن کی معطل چیف جسٹس سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ بدھ کو سینئر ایڈووکیٹ افتخار گیلانی کو معطل چیف جسٹس سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے دیا گیا تھا۔ کونسل اس کیس کی مزید سماعت جمعہ کو کرے گی۔ |
اسی بارے میں احتجاج، گرفتاریاں اور حفاظتی انتظامات15 March, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس یا اے کلاس قیدی‘ 15 March, 2007 | پاکستان وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں 14 March, 2007 | پاکستان احساس تحفظ ضروری ہے: افتخار11 February, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پہلا تحریری بیان13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||