وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں وکلاء برادری نے بدھ کو سندھ اسمبلی کے اندر زبردستی داخل ہوکر وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے خلاف احتجاج کیا اور انہیں متنبہ کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف بیانات دینے سے گریز کریں۔ سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور’ پرویز مشرف مردہ باد‘ اور ’عدلیہ کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے۔ وکلاء نے احتجاجی جلوس بھی نکالا اور وہ سندھ اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے اندر جانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا مگر وکلاء کی ایک بڑی تعداد اسمبلی کے داخلی دروازے کی کنڈی توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ وکلاء سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بارے میں بیان بازی پر سخت ناراض تھے اور وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ایوان کے داخلی راستے پر وکلاء سے ہائی کورٹ کے سابق جسٹس رشید اے رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ ہم یہ احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم گزشتہ ایک ہفتے سے الٹے سیدھے اور ہتک آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ وکلاء کا موقف ہے کہ جو ہاتھ بھی عدلیہ کی جانب طرف اٹھے گا، اسے کاٹ دیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ نہ سمجھیں کہ عدلیہ ایسا ادارہ ہے جس کا محافظ کوئی نہیں ہے۔ ہر وکیل اس ادارے کا محافظ ہے اور اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’ارباب غلام رحیم کے بیانات توہینِ عدالت کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ہم اپنی لڑائی سڑکوں پر لڑیں گے اور عدالتوں میں نہیں جائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا: ’چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور جس طریقے سے ان کی توہین کی گئی ہے، ایسا سلوک تو چوری کے کیس میں ملوث ایک عام ملزم سے بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کو بھی دفاع کا موقع دیا جاتا ہے وہ تو پھر چیف جسٹس ہیں‘۔ کراچی میں بدھ کو ہائی کورٹ اور سٹی کورٹ سمیت تمام عدالتی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔کراچی بار کونسل کی جنرل باڈی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمعرات سے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ دریں اثناء سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار نے مسلم لیگ لائرز فورم سے تعلق رکھنے والے دو وکلاء محفوظ یار اور شفقت ایڈووکیٹ کی رکنیت معطل کردی ہے۔ یہ کارروائی کراچی میں حکمراں مسلم لیگ لائرز فورم کی جانب سے صدارتی حکم کے حق میں مظاہرہ کرنے کے بعد کی گئی ہے۔ ادھر سٹی کورٹ میں بدھ کو ایک وکیل نے حاضر ہونے کی کوشش کی تو وکلاء کی تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد اس وکیل کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ کوئٹہ میں عدالتوں کا بائیکاٹ: ضلع کچہری کوئٹہ سے وکیلوں نے ریلی نکالی اور گورنر ہاوس کے سامنے مظاہرے کے لیے روانہ ہوئے لیکن پولیس نے انہیں گورنر ہاوس کی جانب نہیں جانے دیا تو وکلا کوئٹہ پریس کلب پہنچ گئے۔ پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین علی احمد کرد نے اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبے بھر میں بدھ کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر احتجاج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل یعنی جمعرات سے ایک گھنٹے کا بائیکاٹ اور جزوی ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔ علی احمد کرد نے کہا کہ صدارتی ریفرنس سے عدالتوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ وکلاء برادری اس وقت متحد ہیں اور حکومت کے خلاف بھر پور تحریک جاری رہے گی۔ صوبے کے دیگر اضلاع جیسے ڈیرہ مراد جمالی، تربت، خضدار، لورالائی اور دیگر علاقوں میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور احتجاج کیا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج13 March, 2007 | پاکستان وکلاء: مسلسل احتجاج کا تیسرا دن13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان ’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘13 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||