احتجاج: سنسرشپ کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں صحافتی آزادی کے لیےسرگرم تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف وکلاء کے احتجاج کی کوریج کو سنسر کرنے کی مذمت کی ہے۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں قائم صحافیوں کی تنظیم نے بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے پیر کے روز لاہور میں وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی وڈیو دکھانے پر ٹی وی چینل ’آج‘ اور ’جیو‘ کی نشریات کو معطل کر دیا تھا۔ ان ٹی وی چینلوں پر دکھائی گئی وڈیوز میں پولیس کے لاٹھی چارج کا نشانہ بننے والے زخمی وکلاء کے خون آلود چہروں کو بہت قریب سے دکھایا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدارتی انتخاب کے لحاظ سے اہم سال کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ جارحانہ حکومتی پالیسی کا نشانہ بنیں گے۔ ’صدر مشرف کو فور طور پر اس طرح کی حکومتی مداخلت کو روکنا چاہیے جس سے صحافیوں کی اس آزادی کو زک پہنچتی ہے کہ یہ وہ کیا چھاپیں اور کیا نہ چھاپیں۔‘ معطل چیف جسٹس کے مقدمے کی سماعت سے متعلق میڈیا کو تبصروں اور پروگرام پیش کرنے کے بارے میں جو حکومتی ہدایت جاری کی گئی ہے اس پر پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم اور ٹی وی اور اخبارات کے مدیران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسےآزادی اظہار پر پابندی سے تعبیر کیا ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے اپیل کی ہے کہ ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں ہو تاکہ شفاف طریقے سے معاملے کی کوریج ہو سکے۔ صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر پہلے ہی سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں عمل درآمد ہوتا ہے لیکن ہم اپیل کرتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کی سماعت اس لیے کھلی عدالت میں کرے تاکہ میڈیا بغیر کسی شک و شبہ کے اس کی کارروائی اپنے قارئیں اور ناظرین تک پہنچا سکے۔ ایک نجی ٹی وی چینل آج کے ڈائریکٹر نیوز و حالاتِ حاضرہ طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس ہدایت کے بعد میڈیا کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اس معاملے پر رپورٹنگ کر سکے۔ طلعت حسین کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ان کے چینل کی نشریات کو متعدد بار معطل کیا گیا۔ ’میڈیا ایڈوائس کے بعد ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ حالیہ عدالتی بحران سے متعلق موثر رپورٹنگ کر سکیں کیونکہ ہماری پوری کوریج کسی نہ کسی طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے گرد گھومتی ہے‘۔ ان حالات میں حکومت بھی اس بات کی وضاحت نہیں کر سکی ہے کہ میڈیا کو کیا رپورٹ کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن کے اعلیٰ اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ عدالتی بحران کے شروع ہی سے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اس معاملے کی کوریج مؤثر انداز میں نہ کی جائے۔ انگریزی روزنامہ نیشن اسلام آباد کے ایڈیٹر ابصار عالم کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی ہدایت سے قبل ہی انہیں حکومت کی طرف سے ریفرنس کی کوریج کرنے پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں خبر نہ چھاپو، فلاں تصویر اندر کے صفحے میں چھاپی جائے اور ریفرنس کی سماعت کے روز فوٹو گرافروں سے کیمرے چھینے گئے اور انہیں تصویریں بنانے سے روکا گیا‘۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی کا کہنا ہےکہ اس سلسلے میں وزارت قانون سے مزید وضاحت مانگی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ہدایت ملی ہے کہ ریفرنس سے متعلق میڈیا ایسی کوریج نہ کرے جس سے اس کی کارروائی متاثر ہوتی ہو۔ لہذا حکومت خود کو اس بات کی پابند سمجھتی ہے کہ عدالت کی ہدایت پر عمل درآمد کرائے اور ہم اس سلسلے میں نجی ٹی وی چینلوں کے بعض پروگرام اور ٹاک شوز بند کیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستا ن کی عدلیہ کی طرح میڈیا بھی ایک بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے اور آنے والے چند روز بتائیں گے کہ پاکستان کا ذرائع ابلاغ کس طریقے سے ان مشکل حالات سےنبرد آزما ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں وکلاء کنڈی توڑ کر اسمبلی میں داخل14 March, 2007 | پاکستان ایڈوائس دی گئی: وزیرِ اطلاعات13 March, 2007 | پاکستان ’آزاد عدلیہ، بینظیر کردار ادا کریں‘14 March, 2007 | پاکستان ’عدلیہ نے مضبوط کردار ادا نہیں کیا‘13 March, 2007 | پاکستان معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے10 March, 2007 | پاکستان پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ11 March, 2007 | پاکستان ’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق 11 March, 2007 | پاکستان افتخار چوہدری، مسئلہ کس کو تھا؟09 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||