BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ نے مضبوط کردار ادا نہیں کیا‘

’غیر آئینی قدم کا نتیجہ غیر آئینی جوڈیشل کاؤنسل کی صورت میں نکلا ہے‘
مسلم لیگ کے رہنما اور معزول وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ
آج پوری قوم کی نظریں عدلیہ کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ اپنے نظریہ ضرورت کا رخ پاکستان، آئین اور عوام کی طرف کریں۔

کراچی بار ایسوسی ایشن میں منگل کو وکلاء سے ٹیلیفونک خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’عدلیہ نے آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کبھی مضبوط کردار ادا نہیں کیا۔ نصف صدی پہلے نظریہ ضرورت کی جس تلوار نے جمہوریت اور دستوری نظام کی گردن اڑائی تھی وہ تلوار آج بھی قوم کے سر پر لہرا رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس نظریہ ضرورت کی وجہ سے چار فوجی جنرل پاکستان کے ساٹھ سالوں میں سے تینتیس سال کھاگئے ہیں، ’اس نظریہ ضرورت کی وجہ سے آج بھی پاکستان فوجی آمریت کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے‘۔

ان کے مطابق وقت آگیا ہے کہ جج صاحبان فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف اور پاکستان ، آئین اور عوام کے لیے نظریہ ضرورت کا استعمال کریں۔

نواز شریف نے عدلیہ کے ایک ادارے کے طور پر ردعمل کا اظہار کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر انیس سو نناوے میں انہوں نے جب اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے آرمی چیف کے خلاف قدم اٹھایا تھا تو انہوں نے فوجی طاقت کے زور پر غیر آئینی کارروائی کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس شخص کا کہنا ہے کہ یہ ادارے کا رد عمل تھا۔ ایک ادارہ جو آئینی قدم کے خلاف غیر آئینی قدم اٹھا سکتا ہے تو عدلیہ چیف جسٹس کی خاطر ایک آمر کا راستہ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف جمہوری اور آئینی صدر نہیں ہیں، ان کے مطابق انہیں کئی پیغامات آتے رہے ہیں مگر انہوں نے کبھی کسی غیر آئینی عمل کی حمایت نہیں کی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے ایک غیر آئینی قدم یہ اٹھایا کہ چیف جسٹس کو معطل کردیا، دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ سینئر جسٹس بھگوان داس کی بجائے ایک اور جج کو قائم مقام چیف جسٹس بنادیا، اس غیر آئینی قدم کا نتیجہ غیر آئینی جوڈیشل کاؤنسل کی صورت میں نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے تمام قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ’انتخابات تو بہت دور رہ گئے ہیں اب تو پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہوگیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی حرمت کے پاسدار وکیل پورے عزم سے میدان میں آئیں گے تو بندوق کے زور پر جمہوریت کو یرغمال بنانے والا ٹولہ رخصت ہوجائے گا، یہ فرد واحد کا معاملہ نہیں، ریاست کے ایک اہم ستون کا معاملہ ہے۔

اسی بارے میں
’جھکنے سے انکار پر فارغ‘
11 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد