BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 February, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج

فائل فوٹو
لاپتہ افراد کے خاندان والوں نےاحتجاج کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری رکھا ہوا ہے
پاکستان میں انٹیلیجنس اداروں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جہاں حزب مخالف کے اراکین کے احتجاج کی گونج پارلیمان کے اندر سنائی دی وہاں پارلیمان کے باہر بھی حکمرانوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے مظاہرہ کیا گیا۔

جمعرات کو دوپہر کے وقت مسلم لیگ نواز کے کارکن بینر اور کتبے اٹھا کر پارلیمان کے سامنے جمع ہوئے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نعرے لگائے۔

اس دوران قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور مسلم لیگ نواز کے رہنما چودھری نثار علی خان نے ایوان کے اندر کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ دو دو برسوں سے پاکستان کے شہری لاپتہ ہیں اور حکومت ان کی بازیابی کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

 اس دوران چودھری نثار علی خان نے ایوان کی کارروائی چھوڑ کر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی جماعت کے کارکنوں کے ساتھ پارلیمان کے باہر احتجاج کے لیے جانے کا اعلان کیا تو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے تمام اراکین بھی ایوان سے باہر نکل کر ان کے ساتھ چل دیے

ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن نے بھی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ بے گناہ افراد کو برسوں سے قید کیا ہوا ہے اور تاحال ان کے ورثا کو کچھ نہیں پتہ کہ وہاں کہاں ہیں۔

مولانا نے کہا کہ کوئی ڈاکو بھی اگر کسی کو اغوا کرتا ہے تو تاوان کے لیے گھر والوں کو فون کرکے دوسرے تیسرے روز بتادیتے ہیں اور مغوی کی بیوی بچوں سے بات کراتے ہیں لیکن انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں غائب ہونے والوں کا کچھ پتہ نہیں ہے۔

اس دوران چودھری نثار علی خان نے ایوان کی کارروائی چھوڑ کر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی جماعت کے کارکنوں کے ساتھ پارلیمان کے باہر احتجاج کے لیے جانے کا اعلان کیا تو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے تمام اراکین بھی ایوان سے باہر نکل کر ان کے ساتھ چل دیے۔

بعد میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے اراکین بھی مظاہرے میں شامل ہوگئے اور یوں پارلیمان میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے اراکین نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مل کر احتجاج کیا۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ تو کافی عرصے سے سراپا احتجاج ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ان سے اظہار یکجہتی کے لیے بھی آتے رہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے مل کر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرے میں ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے گئے۔ حزب مخالف کے رہنماوؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری رہا کیا جائے اور اگر کسی کے خلاف حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو عدالت میں پیش کرے۔

 مولانا فضلاً الرحمٰن کہا کہ کوئی ڈاکو بھی اگر کسی کو اغوا کرتا ہے تو تاوان کے لیے گھر والوں کو فون کرکے دوسرے تیسرے روز بتادیتے ہیں اور مغوی کی بیوی بچوں سے بات کراتے ہیں لیکن انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں غائب ہونے والوں کا کچھ پتہ نہیں ہے

واضح رہے کہ انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ سے قوم پرست سیاسی جماعتوں اور ملک کے دیگر حصوں سے مذہبی رجحان رکھنے والے سینکڑوں افراد پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ جن میں سے ان کے مطابق کئی دو دو اور تین برسوں سے غائب ہیں۔

کمیشن کے مطابق لاپتہ افراد کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ غائب شدہ لوگ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

لاپتہ افراد کے واقعات میں اضافے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے از خود کارروائی کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور حکومت نے کچھ لوگوں کو عدالتی مداخلت کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اب بھی درجنوں افراد کے متعلق حکومت عدالت میں کوئی جواب پیش نہیں کر پائی ہے۔

احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
دیکھیئے لاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال
عتیق کی والدہشاید وہ آ جائے۔۔۔۔
’لاپتہ‘ بیٹے کی راہ تکتے والدین کا سال کیسا رہا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد