’15 بڑےواقعات کے ملزمان گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک میں گزشتہ پانچ برسوں میں اٹھارہ بڑے دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور ان میں سے پندرہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پارلیمان کے ایوان زیریں میں دو روز سے امن و امان پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مزار بری امام، ہنگو اور کراچی کے نشتر پارک میں دہشت گردی کے تین واقعات میں ملوث ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔ انہوں نے حزب مخالف کے اراکین کے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیرستان میں اب بھی غیر ملکی شدت پسند موجود ہیں۔ ظفر اقبال وڑائچ نے حزب مخالف کے رہنماؤں بشمول مخدوم امین فہیم اور مولانا فضل الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیرستان کا دورہ کرنے کے بعد ٹیلی ویژن پر حلفیہ بتائیں کہ کیا وہاں سے دہشت گرد چلے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر حزب مخالف کے رہنماؤں نے اس کی تصدیق کی تو وہ بھی وزیرستان اور بلوچستان سے فوج کو واپس بلا لیں گے۔ ظفر اقبال وڑائچ نے جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رحیم یار خان سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوکر حکمران مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بلوچستان کے بارے میں حزب مخالف کے اراکین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کبھی بھی امن و امان کی صورتحال آئیڈیل نہیں رہی۔ ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو جیسے جمہوریت پسند شخص نے بھی وہاں اسمبلی توڑ دی اور بمباری کروائی لیکن موجودہ حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ وزیر نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی سے جب بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو مجبوراً حکومت کو کارروائی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ ہر حکومت میں رہا ہے اور میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہتھوڑا گروپ سرگرم تھا۔ ان کے مطابق امریکی فوج نے ڈیرہ غازی خان میں خود کارروائی کرکے ایمل کانسی کو گرفتار کیا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے امریکی افواج کو پاکستان کے اندر کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ قبل ازیں قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں پاکستان بدنام ہو رہا ہے وہاں ملک کے اندر ہونے والی شدت پسندی بھی ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حزب مخالف کے اراکین نے کہا کہ عالمی اور ملکی سطح پر ’دہشت گردی‘ کے خلاف کارروائیوں سے شدت پسندی کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے اس لیے حکمران اپنی پالسیوں پر نظر ثانی کریں۔ | اسی بارے میں پیپلز پارٹی کے احتجاج کا دوسرا دن22 February, 2007 | پاکستان سینیٹ کےقواعد پرکمیٹی کی رپورٹ 21 February, 2007 | پاکستان موریا و اشوک دور کے خلاف واک آؤٹ21 February, 2007 | پاکستان ’انڈیانےمعلومات بروقت نہیں دیں‘20 February, 2007 | پاکستان ’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘18 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||