سینیٹ کےقواعد پرکمیٹی کی رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے بدھ کو قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں وسیع پیمانے پر ترامیم کے متعلق ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی ہے۔ مجوزہ ترمیمی قوائد میں سپیکر کو لاتعداد اختیارات دیے گئے ہیں۔ وہ کسی بھی رکن کو ایوان سے باہر بھیجنے، تنخواہ اور مراعات بند کرنے اور ایوان کے اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کا مجاز ہوگا۔ پہلے سے موجود قاعدہ نمبر تیس کو مزید وسیع کرتے ہوئےایوان میں نعرہ بازی، بینر یا کتبہ اٹھانے، ٹیبل پر پیش کردہ دستاویزات پھاڑنے، پھینکنے، شور شرابہ کرنے اور سپیکر کے ڈائیس پر آنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کے خلاف سپیکر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے ایوان سے باہر بھجوادے یا اس پر پورے سیشن میں شرکت کے لیے پابندی عائد کردے۔ سپیکر شور شرابہ کرنے والے اراکین کی تنخواہ اور مراعات بند کرنے کا بھی مجاز ہوگا۔ نئے ترمیمی قوانین میں وقفہ سوالات میں کسی سوال پر تین ضمنی سوالات پوچھنے کے بجائے محض دو سوالات پوچھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مجوزہ ترمیمی قوانین کے تحت سپیکر اگر ایوان کے اندر کوئی فیصلہ دے یا فائل پر کوئی حکم جاری کرے تو اُس حکم یا فیصلے کو چیلینج نہیں کیا جا سکےگا۔ ایوان میں حزب مخالف کے قائد کو منتخب کرنے کے کی شق میں بھی ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت سپیکر اراکین اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد اکثریت رکھنے والے رکن کو قائد حزب اختلاف نامزد کرے گا۔ واضح رہے کہ موجودہ شق کے تحت حزب مخالف کا لیڈر اکثریت کی بنا پر سپیکر مقرر کرتا ہے لیکن حزب مخالف کے مطابق اس میں ابہام ہے۔ موجودہ اسمبلی میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے رہنما مخدوم امین فہیم کو زیادہ اراکین کی حمایت حاصل تھی لیکن حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کو قائد حزب مخالف نامزد کردیا تھا۔ حزب مخالف نے مجوزہ ترمیمی قوانین پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قوانین حزب مخالف کا گلا دبانے کی کوشش ہیں اور اس طرح کے اقدامات جمہوری عمل کی روح کے منافی ہیں۔ حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر، اعتزاز احسن اور مسلم لیگ نواز کے رکن خواجہ محمد آصف نے جو ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے اراکین ہیں، اپنا اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے۔ اِن اراکین نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ کسی قیدی رکن اسمبلی کو ایوان میں لانے کے متعلق ان کی تجویز شامل نہیں کی گئی ۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی یا پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کی حسب ضرورت صدارت سپیکر کے بجائے صدرِ مملکت کے کرنے کے متعلق شق شامل کرنا پارلیمانی روایات کی منافی ہے اور یہ ایک مضحکہ خیز صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ اختلافی نوٹ میں حزب مخالف کے اراکین نے کہا ہے کہ اراکین کی تنخواہ وغیرہ کاٹنا حزب مخالف کو احتجاج سے روکنا ہے اور دنیا کی کسی پارلیمان میں ایسی روایت نہیں ہے۔ نوید قمر اور دیگر نے مزید کہا ہے کہ جب فوجی احکامات کے ذریعے آئین میں ترامیم ہوں اور حکومت بنانے کے لیے وفاداری تبدیل کرنے پر پابندی سے متعلق شق معطل کرنے کے غیر آئینی اور غیر جمہوری احکامات جاری ہوں تو ظاہر ہے کہ حزب مخالف کو بھرپور طور پر احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان کے بقول نئے قوانین کا مقصد حزب مخالف کو احتجاج کرنے سے روکنا ہے۔ | اسی بارے میں خواتین ارکان کے خلاف کارروائی09 May, 2006 | پاکستان سینیٹ میں بجٹ پر شدید تلخی07 June, 2006 | پاکستان ’بلوچستان سے نوٹ اور ہتھیار ملے‘ 07 August, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سینیٹ سے منظور23 November, 2006 | پاکستان سینیٹ: اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ17 January, 2007 | پاکستان ٹیکسیوں کی درآمد، حکومت کا اعتراف19 January, 2007 | پاکستان انٹیلیجنس رپورٹس یا ٹی وی ڈرامہ؟23 January, 2007 | پاکستان سینیٹ: صحافیوں کا دوبارہ واک آؤٹ24 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||