ٹیکسیوں کی درآمد، حکومت کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صنعتی پیدوار کے وزیر جہانگیر ترین نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیس فیصد ڈیوٹی لگا کر لندن سے ’ کالی ٹیکسیاں‘ درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جہانگیر ترین جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں حزب مخالف کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کا جواب دے رہے تھے کہ حکومت نے داؤد خان نامی ایک سرمایہ کار کو کالی ٹیکسیاں بغیر کسی ڈیوٹی کے درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل پچھلے سال اگست میں جہانگیر ترین نے ہی قومی اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ لندن سے کالی ٹیکسیاں درآمد کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے دیئے گئے اشتہار کے جواب میں کسی سرمایہ کار نے بھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے اس بیان کے بعد یہ کہا جانے لگ گیا تھا کہ پاکستانی سڑکوں پر لندن کی کالی ٹیکسیاں چلانے کا حکومتی خواب پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ لیکن پیپلز پارٹی کے سینیٹر انور بیگ نے جمعہ کو تحریک التواء پیش کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے نہ صرف داؤد خان کو ’ ڈیوٹی فری کالی ٹیکسیاں ‘ درآمد کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ ان گاڑیوں کا ’اسمبلنگ پلانٹ‘ لگانے کے لیے انہیں کراچی کے نواح میں پانچ سو ایکڑ زمین بھی الاٹ کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پرائم ٹرانسپورٹ کمپنی کو کالی ٹیکسیوں کی درآمد اور ملک میں بنانے کا پلانٹ لگانے کی منظوری کے لیے سمری وزارت پیداوار نے کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کو گزشتہ برس بیس مئی کو بھیجی تھی۔ ان کے مطابق سات جون کو اشتہار دے کر بولیاں طلب کی گئیں اور کسی نے بھی درخواست نہیں دی لیکن اس دوران متعلقہ کمپنی کو پانچ سو ایکڑ سے زائد رقبہ کراچی کے نزدیک دھابیجی کے علاقے میں الاٹ کیا گیا ہے۔
انور بیگ نے کہا کہ بعد میں اچانک سینٹرل بورڈ آف ریونیو نے ایک سمری حکومت کو بھیجی اور حکومت نے متعلقہ کمپنی کے مالک داؤد خان کو ڈیوٹی فری ٹیکسیاں درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ حزب مخالف کے سینٹر نے جب اس بارے میں دستاویزات ایوان میں لہرائیں تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ انہوں نے سرکاری دستاویزات چوری کی ہیں ،جو کہ یہاں پیش نہیں کی جاسکتیں۔ اس پر سینیٹر صفدر عباسی اور دیگر نے احتجاج کیا اور حکومت پر بدعنوانی کے سنگیں الزامات لگائے۔ سینیٹر بیگ نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کے مالک نے لاہور کے کورکمانڈر اور ڈیفینس ہاوسنگ اتھارٹی کے حکام سے ملاقات کی اور طے پایا کہ لاہور میں ڈیفینس کے علاقے میں عام ٹیکسی یا رکشہ کی بجائے صرف لندن والی کالی ٹیکسیاں چلانے کی اجازت ہوگی۔ اس پر صنعتی پیداوار کے وزیر جہانگیر خان ترین نے کہا کہ کور کمانڈر کی اس بارے میں ملاقات کے متعلق یہ ٹھوس معلومات پیش کریں کیونکہ یہ محض قیاس پر مبنی بات کر رہے ہیں۔ پھر انور بیگ نے متعلقہ کمپنی کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کردہ ایک تصویر دکھائی جس میں ان کے مطابق کور کمانڈر موجود تھے۔ اس پر وزیر نے کہا کہ ضروری نہیں کہ اس ملاقات میں یہی بات طے ہوئی ہو جو حزب مخالف کے رکن کہہ رہے ہیں۔
حزب مخالف کے اراکین نے کہا کہ کالی ٹیکسی ناکام ہوگئی ہے اور خود لندن میں اُسے ختم کیا جا رہا ہے اور حکومت چالیس ہزار پاؤنڈ کی یہ گاڑی پاکستان منگوا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ساڑھے گیارہ روپے فی کلومیٹر کرایہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ کمپنی پلانٹ نہیں لگا رہی تو اُسے پانچ سو ایکڑ زمین سستے دام کیوں دی گئی اور اب اس زمین پر کیا وہ ہاؤسنگ سکیم شروع کریں گے؟ انہوں نے یہ معاملہ غور کے لیے ایوان کی کمیٹی کو بھجوانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص علاقوں میں لندن والی ٹیکسیوں کے علاوہ دیگر ٹیکسیوں پر پابندی کی بات قیاس آرائی پر مبنی ہے، کیونکہ نہ ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی ابھی ٹیکسیاں پاکستان پہنچی ہیں۔ متعلقہ کمپنی کو زمین الاٹ کرنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کے علم میں ہے تو ابھی زمین انہیں نہیں ملی اور اگر ہے بھی تو سندھ حکومت اس بارے میں درست جواب دے سکتی ہے۔ وزیر صنعتی پیداوار نے اس معاملہ کو کمیٹی کو بھیجنے کی مخالفت کی اور چیئرمین سینیٹ نے حزب مخالف کی تحریک نمٹا دی۔ | اسی بارے میں لندن کی کیبس پاکستان میں چلیں گی19 June, 2006 | پاکستان کالی ٹیکسیوں کا منصوبہ خطرے میں19 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||